دانلود پایان نامه

اشاره کرنا ضروری سمجھتے هیں که دو جداگانه امر اگرچه ایک هی زمانے میں هو ایک دوسرے کے ساتھ رابطه نهیں رکھ سکتے اور ان کے درمیان نسبت برقرار نهیں هو سکتی۔ نسبت کے برقرار هونے کا معیار ان دو چیزوں کا ایک هی زمان میں هونا نهیں هے بلکه واقعی وحدت اور اتصال هے خواه ایک هی زمان میں هو یا هر ایک جداگانه زمان میں۔ کبھی ممکن هے ایک زمانی هو اور دوسرا مجرد اور غیر زمانی ۔
حال اور آئنده کے درمیان امکان کی نسبت صحیح هونے کی علت یه هے که واقعا اور حقیقتا آئنده یهی حال هے اور حال وهی آئنده هے لیکن اگر دوجداگانه امر هوتے تو کسی قسم کی نسبت کا ان دونوں کے درمیان برقرار هونا ممکن نهیں هوتا۔
اس بات کا راز جو کهتے هیں “ ایجادی علل میں (نه اعدادی اور زمانی علل) معلول علت کے مرتبے میں موجود هے “ اور معلول علت کے مرتبے کا نازل منزله هے، یهی اتحادی رابطه هے ۔ وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ ما نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ (حجر/21) اور کوئی شئ ایسی نهیں هے جس کے همارے پاس خزانے نه هوں اورهم هر شئ کو ایک معین مقدار میں هی نازل کرتے هیں۔

پس بیچ کی صورت کے وجودکا پایان اور انجام بھی سیب کی صورت کا آغاز هے ۔ ان دو صورتوں کا مجموعه ایک متصل اور لچکدار شئ کو تشکیل دیتا هے ۔در نتیجه ان صورتوں کے درمیان جدائی کا اثبات کرنا جنهیں ماده تدریجاً قبول کرتا هے اور ان کے درمیان تکثر کو اثبات کرنا خیال اور فرض کے علاوه کچھ بھی نهیں هے بلکه جیساکه مقاله نمبر5 میں گذر گیا یه صورتیں ایک دوسرے سے جدا هونے کی حالت میں بھی شئ واحد کو تشکیل دیتی هیں۔
اشکال
ممکن هے گذشته بیان پر اعتراض کرتے هوئے کهیں که گذشته بیان آج کی سائنسی تشخیص سے مطابقت نهیں رکھتا۔(1)

مولوی کهتے هیں:
متحد بودیــم یک گوهر همه بی سروبی پا بدیـــم آنجا همه
یعنی وهاں هم سب سر اور پاؤں کے بغیر ایک هی گوهر میں متحد تھے۔
یک گهر بودیم همچون آفتاب بی گره بودیم و صافی همچو آب
هم آفتاب کی طرح ایک هی گوهر تھے بے عیب اور شفاف پانی کی طرح صاف تھے۔
(1)گفتگو یهاں تک پهنچ گئی کی امکان اور فعلیت کے درمیان، دوسرے لفظوں میں گذشته اور آئنده کے درمیان فاصله نهیں هے ۔ صورتوں کی کثرت، واقعی کثرت نهیں هے بلکه وهمی اور خیالی هے اور جو چیز ابھی هے اس چیز کے ساتھ جو آئنده هوگی متصل هے اور مجموعاً ایک هی حقیقت کو تشکیل دیتی هیں۔
یهاں پر ممکن هے آج کے طبیعی علوم کی نگاه سے اشکال وارد هوجائے اور وه یه که اس نظریے کی اساس اور بنیاد وحدت اور اتصال پر هےجبکہ عصر جدیدمیں سائنس اتصال کے نظریے کو مردود جانتی هے۔

کیونکه جدید سائنسدانوں نے ثابت کیا هے که اجسام کا ڈھانچه ایک متصل شئ نهیں هے۔ هر جسم چند چھوٹے اور باریک اجزاء سے مرکب هے جو توانائی میں تبدیل هونے کے قابل هے۔ در حقیقت هر مادی جز توانائی کے ایک مجموعے سے وجود میں آیا هےاور توانائی خود بھی دانه دانه سے مرکب هے اور هر دانه Quantum کهلاتا هے۔
دوسری طرف سے عالم طبیعت میں ماده اور توانائی، بهتر تعبیر میں توانائی کے علاوه کچھ بھی نهیں هے۔ اس بناپر “اتصال اور پیوستگی” ایک گمان اور خیال کے سوا کچھ بھی نهیں هے۔

مقاله کے مقدمے میں بیان هوا 26 که یونانیوں کے زمانے میں یه مسئله حکماء کے درمیان مطرح تھا که جسم کی حقیقت کیا هے؟ جسم کس چیز سے تشکیل پایاهے؟ جو چیز مسلم هے وه یه هے که هم اپنے سامنے کچھ اجسام کو دیکھتے هیں جو محسوس اور ملموس اور سه گانه ابعاد یعنی لمبائی ،چوڑائی اور گهرائی رکھتے هیں۔ آیا یه اجسام جس طرح هم محسوس کرتے هیں واقعیت میں بھی ایسا هے یا نهیں؟ کهیں جو چیز واقعیت میں هے وه محسوس سے متفاوت اور مختلف تو نهیں هے؟ یه موضوع تین بنیادی نظریوں کا حامل هے:
الف) وه نظریه جسے ارسطو کے زمانے سے عصر جدید تک اکثر قریب به اتفاق فلاسفرز نے قبول کیا هے خاص طور پر اسلامی فلاسفرز کی اصطلاح میں جمهورحکماءکے نظریے کے عنوان سے معروف هے جس کے مطابق وه اجسام جسے هم محسوس کرتے هیں مثلا پانی، هوا اور آگ ان میں سے ہر ایک جس طرح ہم حس کرتے ہیں ابعاد ثلاثہ لمبائی ،چوڑائی اور گہرائی پر مشتمل ایک محسوس واقعیت ہے
جواب
هماری گذشته بحث گذشته فرضیات اور نظریات کے بطلان پر متوقف اور استوار نهیں هے۔ همارا واسطه صرف ان موجودات کے ساتھ هے جو واقعیت اور خارج میں موجود ہوتے ہیں اور اس اتصال کے بارے میں هے جسے هم خارجی اشیاء یا ان کی صفات کے درمیان اثبات کرتےهیں نه که دو ایٹموں یا مالیکیول یا دو ذرات کے درمیان ۔

ب) ڈیماکریٹس27 کا نظریه: اس نظریے کے مطابق محسوس اجسام چھوٹے غیرمحسوس اور غیرقابل تقسیم ذرات کے مجموعے سے تشکیل پاتے هیں۔ ڈیماکریٹس کے عقیدے میں هر وه جسم جو دو حصوں میں تقسیم هوتا هے حقیقت میں ذرات کا ایک دوسرے سے دور هونے کی وجه سے هے ۔لیکن جمهور حکماء کے نظریے کے مطابق جب هم کسی جسم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے هیں تو حقیقت میں ایک واقعی شئ دواشیاء میں تبدیل هوجاتی هے۔28 نیز ڈیماکریٹس کے نظریےکے مطابق خود وه ذرات جو اجسام محسوس کو تشکیل دیتے هیں تقسیم کے قابل نهیں هیں یعنی ان کا تقسیم هونا محال هے۔ دوسروں کے نظریے کےبرعکس جو کهتے هیں ایک جسم جتنا بھی باریک اور چھوٹا هو تقسیم کی قابلیت اس سے سلب نهیں هو سکتی۔

بلکه دو خارجی اکائیاں دوسرے لفظوں میں ایک خارجی اکائی کے دومرتبو
ں کے درمیان هے۔ هم کبھی بھی واقعی اکائیوں سے انکار نهیں کرسکتے اور واضح هے که هر مفروضه اکائی تقسیم کے ذریعے ختم هو جاتی هے۔انسان کا ایک فرد ایک اکائی هے اسی طرح ایک بھیڑ یا مرغ یا بید کا ایک درخت ایک اکائی هے۔

ڈیماکریٹس کے نظریے کی بناپر جسم کو تشکیل دینے والا هر ذره خود ابعاد ثلاثه کا مالک هے اور ذرات اتصالی وحدت رکھتے هیں درحقیقت واقعی جسم (یعنی جسم واحد) وهی ذرات هیں اور محسوسه اجسام میں سے هر ایک کچھ چھوٹے اجسام کا مجموعه هے۔حقیقت میں ڈیماکریٹس فلسفیانہ نقطه نگاه-یعنی اس جهت سے که جسم کی حقیقت سے مربوط هے- دوسروں سے اختلاف نهیں رکھتا بلکه ان کے ساتھ هم آهنگ هے اور جسم کی حقیقت کو ابعاد ثلاثه میں قابل تقسیم جوهر مانتا هے۔ ڈیماکریٹس کا دوسروں سے اختلاف جسم کی حقیقت کے بارے میں نهیں هے بلکه اس حقیقت کے مصداق کے بارے میں هے ۔ یعنی اختلاف سائنسی اور حسی نقطه نگاه سے هے که آیا محسوس اجسام میں سے هر ایک جداگانه واقعی جسم رکھتے یا هر ایک مختلف اجسام کا مجموعه هے؟
ڈیماکریٹس کا دوسرا اختلاف ذرات کے قابل تقسیم هونےاور نه هونے میں هے۔ اس کے عقیدے کے مطابق ذرات غیر قابل تقسیم هیں جبکه دوسرے فلاسفرز معتقد هیں که جسم کے حصے جتنے چھوٹے هی کیوں نه هو اپنی تقسیم پذیری کی قابلیت کو محفوظ رکھتے هیں۔ البته یه اختلاف نظر فلسفی هے نه سائنسی۔
ج – اسلامی متکلمین تیسرا نظریه رکھتے هیں ۔ ان کے مطابق هر جسم ایسے ذرات سے تشکیل پاتا هے جو کسی قسم کا بُعد ، کشش اور امتداد نهیں رکھتے هیں۔ متکلمین ان ذرات کو “جسم کی حقیقت “ یا “جسم کا جدا ناپذیر جز”کے نام سے تعبیر کرتے هیں۔ متکلمین کے مطابق محسوس اجسام جس طرح هم محسوس کرتے هیں واقعیت نهیں رکھتے بلکه جو چیز واقعیت میں هے وه ذرات هیں جو اجسام کو تشکیل دیتے هیں۔ اور وه ذرات لمبائی، چوڑائی اور گہرائی میں سے کسی قسم کا بُعد نهیں رکھتے۔

اگر چه هم کبھی اکائی کی تشخیص میں خطا کرتے هیں اور غیر اکائی کو اکائی تصور کرتے هیں۔ هم نے کسی حد تک مقاله نمبر 5 میں خصوصا اس مسئلے کے کثرت اور خارجی اختلاف کی وضاحت کی هے۔

متکلمین کا ڈیماکریٹس سے اس بات میں اختلاف هے که ڈیماکریٹس کے مطابق جسم کو تشکیل دینے والے ذرات ابعاد ثلاثه رکھتے هیں یعنی هر ذره ان کے نزدیک ابعاد ثلاثه کا مصداق هے لیکن متکلمین کی نظر میں ذرات کسی قسم کی لمبائی ، چوڑائی اور گهرائی کی شکل میں امتداد نهیں رکھتے اور جسم کی تعریف ان پر صدق نهیں آتی بلکه بنیادی طور پر جسم اس معنی میں که جوهرهے جو ابعاد ثلاثه کی قابلیت رکھتا هے واقعی اور خارجی مصداق نهیں رکھتا ابعاد ثلاثه سے عاری ذرات کے مجموعے سے لمبائی ، چوڑائی اور گهرائی کی خاصیت وجود میں آتی هے۔پس ابعاد ثلاثه مجموعے کی خاصیت هے اور کوئی بھی مجموعه جیسا که جانتے هیں اجزاء کے سوا کوئی وجود نهیں رکھتا مگر اخذی اور اعتباری طور پر۔ ایسے مجموعے کی خاصیت یه هے که ابعاد ثلاثه وجود میں آئے۔ کیسے ممکن هے کسی قسم کے بُعد نه رکھنے والے اجزاء سے بُعد رکھنے والا مجموعه وجود میں آئے ، یہ ایک ایسا مطلب هے جسے حکماء نے اعتراض کے طور پر متکلمین کے نظریے پر وارد کیا هے۔
یه وہ نظریات ہیں جنهیں جسم کے بارے میں قدیم سائنسدانوں نے پیش کئے هیں۔ ڈیماکریٹس اور متکلمین کا نظریه بتدریج منسوخ هوگیا هے اور کوئی حامی نهیں هے۔ یه نظریه فلسفی کتابوں میں فلسفه کی تاریخ کے عنوان سے اور نقد کرنے کی خاطر ذکر هوتا رها۔ لیکن ایک قرن پهلے کچھ انکشافات هوئے جس نے مخصوصا ڈیماکریٹس کے نظریے کو زنده کیا اور ثابت کیاکه محسوس اجسام ذرات کے مجموعے سے تشکیل پائے هیں ۔

بهر حال اس مطلب کو مدنظر رکھتے هوئے اگر فرض کریں کہ ایک جسم جو کبھی بھی مکان سے خالی نهیں هوسکتا اپنی حرکت کے ذریعے ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف منتقل هو جائے تو دیکھیں گے که یه جسم اپنی حرکت کےذریعےابتدائی مکان کو چھوڑ کر هر لمحه ایک جدید مکان (هر جسم کا دیگر اجسام اور اپنے اطراف کی نسبت) حاصل کرتا هے اور بعد کے لمحے میں ایک نئی جگه گھیر لیتا هے۔

پهلے بیان هوا که ڈیماکریٹس جسم کی حقیقت اور ماهیت کے حوالے سے جمهور حکماء کے ساتھ اختلاف نهیں رکھتا اس کی نظرمیں بھی جسم سے مراد وه جوهر هے جو اپنی ذات میں ابعاد ثلاثه کے قابل هے۔ دوسرے فلاسفرز کے ساتھ ڈیماکریٹس کا اختلاف دو جهت سے هے ایک علمی اور سائنسی دوسرا فلسفی۔سائنسی جهت سے وه معتقد تھا که جو چیز مشاهدے میں آتی هے وه جسم واقعی نهیں هے بلکه اجسام کا مجموعه هے ۔ جدید سائنس کی تحقیقات نے قطعی طور پر ثابت کیاهے که اس جهت سے حق ڈیماکریٹس کے ساتھ هے ۔ دوسرا اختلاف جو فلسفی هے وه جسم واقعی کی تقسیم ممکن هونے اور نه هونے میں هے۔ ڈیماکریٹس کی نظر میں جسم واقعی جو که وهی ذرات هے کی تقسیم ممتنع هے لیکن فلاسفرز کی نظر میں جسم واقعی جس مقدار میں بھی هو همیشه قابل تقسیم هے ۔ فلاسفرز اپنے اس مدعا کو ثابت کرنے کے لئے ایک خاص کو برهان قائم کرتے هیں فی الحال اس سے بحث کی گنجائش نهیں هے ۔
ابتداء میں جدید سائنسی تحولات ڈیماکریٹس کے نظریه جو ذرات کے تقسیم نہ هونے کے بارے میں هے کی تائید کرتی تھی لهذا ان ذرات کو “ایٹم” یعنی شکست ناپذیر نام رکھا گیا ۔ لیکن بعد میں ثابت هوا که ذرات شکست ناپذیر نهیں هیں بلکه ان ایٹموں میں سے هر ایک ، ایک منظومه کو تشکیل دیتا هے جس سے مراد ایک مرکزی نقطه اور چند جا
نبی نقاط هے۔
بعد میں اس حوالے سے اور بھی نظریے پیدا هو ئے جن کے مطابق ممکن هے ایٹمی ذرات جو ماده کا آخری فرد هے اپنی مادی حالت کھو دے اور توانائی( Energy) میں تبدیل هوجائے۔ لیکن یه بحث که توانائی کی کیسے تعریف کریں تاکه مادے کے مقابلے میں قرار پائے اور وه اصل جو کبھی مادی تجسم پیدا کرتا هے اور کبھی توانائی کی حالت اختیار کرلیتا هے وه کیا هے، ایک ایسا مطلب هے جو زیاده تحقیق اور جستجو طلب هے اور اس مقالے کی گنجائش سے باهر هے۔

اسی طرح تیسرے لمحے میں تیسرا مکان …

ماده توانائی میں تبدیل هونے کی قابلیت رکھنے کا نظریه کسی حد تک متکلمین کے نظریے کو زنده کرتا هے؛ کیونکه اس نظریے کے مطابق جس چیز سے اجسام تشکیل پاتےهیں خود ماده نهیں هے اور جسم نهیں رکھتا هے اس کے باوجود جسم کو تشکیل دیتا هے-
مذکوره بیان سے معلوم هوتا هے که سائنسی نظریات نے


دیدگاهتان را بنویسید