دانلود پایان نامه

حالت بھی الزامی طور پر اپنی ضد کی طرف متمائل هو جائے اور ایک عالی مرحله کو طے کرے اور یه سلسله بے انتها اسی طرح جاری رهے ۔

لیکن یه بات ان کو کوئی فائده نهیں پهنچاتی هے کیونکه یه قانون بهت سارے مرکبات ، مانند وه مرکبات جن کے تحول اور ارتقاء کا سفر تقریباً یکساں هوتا هے، میں بھی جاری هوتا هے طبیعی کائنات اس کی واضح ترین مثال هے کیونکه خود یهی سائنسدان حضرات گواهی دیتے هیں که طبیعی کائنات، کمی بیشی کی قابلیت نه رکھنے والی توانائیوں کا ایک مجموعه هے جو اپنی ساخت کے هر گوشے میں مختلف صورتوں میں خود نمائی کرتی هے اور اس بنا پر هر گوشے میں وجود آنے والا هر جدید موجود “ارتقاء” کی شکل میں خودنمائی کرتا هے۔

مثلث “تز، اینٹی تز ، سنتز” بسائط بلکه مرکبات حقیقی جو ایک واقعی موجوداتی صنف کو تشکیل دیتے هیں اور اصطلاح میں ایک عمومی شکل رکھتے هیں جیسا که نباتی، حیوانی، اور انسانی اصناف ،میں جاری نهیں هے۔ انسان اپنی ترقی کے سفر میں ایسے پر پیچ و خم راستے طے نهیں کرتا هے اور انسان اپنے اندر ایسی متضاد توانائیاں جو ایسی حرکت تک منتهی هو نهیں رکھتا هے۔ یه مثلث “تز، اینٹی تز ، سنتز” صرف ایسے مرکبات میں قابل اجراء هے اور اس مرکب کے اجزاء ایک دوسرے کے اوپر متضاد اثرات رکھتے هوں جیسا که معاشره۔
یه تثلیثی سفر وهاں سے وجود میں آتا هے که اشیاء ایک دوسرے کے اندر متضاد اثرات رکھتی هوں اور ایک جهت سے آپس میں جنگ اور اختلاف کی حالت میں هوں اشیاء اپنی ابتدائی طبیعت کے حساب سے ایک مستقیم ترقییافته اور آرام سفر طے کرتی هیں اور ایک مخالف عامل کے ساتھ آمنا سامنا هونے کی وجه سے ایک متوسط اور متوازن حالت سے ایک انحرافی حالت کی طرف دھکیلی جاتی هیں لیکن ردعمل دکھاتے هوئے اس انحرافی حالت کی مخالف سمت میں حرکت کرتی هیں اور حد وسط سے گزر کر اس کے مقابل نقطے کی طرف جو اس کی ضد هے پهنچ جاتی هیں بار دیگر اسی ابتدائی انحرافی حالت کی طرف جسے متضاد توانائی نے پیدا کیا تھا پلٹ جاتی هیں لیکن اتار چڑھاؤ کے بعد پهلے سے بهتر حالت میں حدوسط میں قرار پاتی هیں کیونکه اتارچڑھاؤ کی حالت میں شئ کی ذاتی توانائیاں همیشه فعالیت کی حالت میں هوتی هیں۔

حقیقت میں طبیعی کائنات کے ایک گوشے میں موجود توانائیاں اپنے حدو اندازے کے مطابق دوسرے گوشوں کی توانائیوں سے استفاده کرتی هیں نتیجے میں همیشه دونوں طرف تساوی کی حالت میں باقی رهتی هے۔ اور کوئی ارتقاءوجود میں نهیں آتا۔

یه تثلیثی سفر چار عاملوں سے سرچشمه لیتا هے:
1 – اشیاء کا ارتقاء اور صعودی سفر کی طرف فطری میلان۔
2 – تضاد کی خصوصیات اور مخالف عوامل کے ساتھ آمنا سامنا۔
3 – عمل اور ردعمل کا قانون۔
4 – مخالف عوامل کے ساتھ آمنا سامنا هونے کی وجه سے اندرونی توانائیوں کا متحرک هونا۔
ایک اور مطلب جسے مخفی نهیں رهنا چاهئے وه یه هے که ضد کا اپنے ضد کو جنم لینے کا مسئله ممکن هے ایسی شکل میں هو که تثلیثی سلسلے تک منتهی نه هوجائے ۔ تثلیثی سلسله جیساکه بیان هوا اس مورد میں هے که شئ پر باهر سے کوئی مخالف عامل اثر انداز هوا هو اور ٹکراؤ یا اس پر توانائی وارد کرنے کے نتیجے میں اسے کسی سمت دھکیل دیا هو ، اور ردعمل کے طور پر متقابل حالت اس میں پیدا هوگئی هو اور آخر کار وه شئ “وضع مجامع” تک منتهی هوگئی هو ۔
لیکن طبیعت میں ایک اور لهر یا سلسله هے اگرچه کلی، عمومی اور فلسفی نهیں هے لیکن کچھ خاص موارد میں یه لهر اپنا اثر دکھاتی هے اس طرح اشیاء اپنی اضداد کو جنم لیتی هیں ۔ شاید قرآنی تعبیر اس کے بارے میں واضح اور روشن هو “ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَ يُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ” (فاطر /13) اور “ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَي‏” (یونس / 31)
یه مطلب که ضد اپنی ضد کو جنم دیتی هے – البته اس معنی میں نهیں که یه کائنات کا ایک عمومی قانون هو اور تمام اشیاء کو شامل کرے اور ایک همیشگی اور لاینقطع سلسله هو- قدیم الایام سے بزرگان کا مورد توجه رها هے ۔

4 – یه جو کهتے هیں “یه قانون کائنات کے چهرے سے پرده هٹاتے هوئے ایک نئے ظهور کی نشاندهی کرتا هے جس کے اندر متنافی وجود اورعدم اور متقابل اضداد هم آغوش هیں”۔

مولانا رومی نے کیا خوب کها هے:
با خود آمد گفت ای بحر خوشی‏ ای نهاده هوش را در بیـــــهشی‏
خواب در بنهاده‏ای بیـــداری ای‏ بـسته‏ای در بی‏دلی دلـــــداده‏ای‏
منعمی پنهان کنی در ذلّ فقــــر طوق دولت بندی اندر غلّ فقـــر
ضــــــد اندر ضد پنهان مندرج‏ آتش اندر آب سوزان منـــــدمج‏
روضه‏ای در آتش نمـــرود درج‏ دخـلها رویان شده از بذل و خرج‏
میوه شیرین نهان در شاخ و بـرگ‏ زندگی جاودان در زیــــــر مرگ‏
در عــدم پنهان شده موجودی ای‏ در سرشت ساجــدی مسجودی ای‏
آهن و سنـــگ از برونش مظلمی ‏ وز درون نوری و شمـــــع عالمی‏
درج در خوفی هزاران ایـــــمنی‏ در سواد چشم چندیـــــن روشنی‏
ای مبــــدّل کرده خاکی را به زر خاک دیـــــــگر را نموده بوالبشر
ای که خاک شــوره را تو نان کنی ‏ ای که نان مـــــرده را تو جان کنی‏
ای که جان خیــــره را رهبر کنی‏ ای که بی‏ره را تو پیغمبــــــر کنی‏
ای که خاک تیـره را تو جان دهی‏ عقل و حسّ و روزی و ایمان دهی‏
شکر از نی میـــو
ه از چوب آوری‏ از منی مرده بت خــــــوب آوری‏
گل ز گل صفوت ز دل پیــدا کنی‏ پیه را بخشی ضیــــــاء و روشنی‏

ایک ایسی بات هے جو صرف شاعرانه حیثیت کے سوا کچھ نهیں هے اور اجتماع نقیضین کو محال سمجھنے والوں کی مراد مطلق وجود اور عدم هیں نه که نسبی تدریجی اور سیال۔(1)
اس سے بھی حیران کن بات یه هے که یه سائنسدانحضرات ان شاعرانه باتوں کے علاوه“نفی نفی” سے “اثبات”کا نتیجه لیتے هیں۔

(1) یه اعتراض بھی مثلث “تز، اینٹی تز،سنتز”کے بارے میں هیگل کی تعبیر اور تفسیر کی بنیاد پر وارد هے جسے اجتماع نقیضین کی بنیاد پر فرض کیا گیا هے۔
پهلے بیان هوا که هیگل اور اس کے پیروکار جس چیز کو “ تناقض”اور “اجتماع نقیضین” کانام دیتے هیں اس سے جسے منطق اور فلسفه اجتماع نقیضین سے تعبیر کرتے هیں اور اسے ممتنع سمجھتے هیں هزاروں میل کے فاصله پر هے ۔ اور یه که “صیرورتها” اور “شدنها” میں وجود اور عدم آپس میں مرکب هوئے هیں اور اجتماع نقیضین کوتشکیل دیا هے کوئی سنجیده بات نهیں هے بلکه مزاق سے زیاده شباهت رکھتی هے جو ایک غیر معمولی جِدّت پسندی اور روشن خیالی سے وجود میں آئی هےبهتر هے ان باتوں میں سنجیدگی نه لیں اور انهیں ایک قسم کی مجاز اور تشبیه تلقی کریں۔ اگر اس طرح کی تعبیرات کو ملاک قرار دیں تو ضروری هے هم اپنے عرفاء کو هیگل سے پهلے جدلیاتی مان لیں کیونکه عرفاء هیں جنهوں نے مکرراً کها هے که “هستی ، نیستی کے اندر هے”، “بقاء فناء میں هے”۔ ایک عارف کهتا هے:
عاقل زهست گوید و عارف ز نیستی من در میان آب و گل هست و نیستم
عاقل کهتا هے “هے” اور عارف کهتا هے“نهیں هے” میں “هستی اور نیستی” کے دلدل میں هوں
عبرت نائینی95 کهتا هے :
چون نور که از مهر جدا هست وجدانیست ‏ عالم همه آیات خدا هست و خدا نیست‏
در آینه بینیـــــــــد همه صورت خود را آن صورت آئینه شما هست و شما نیست‏
هر جا نگری جلوه گه شاهـــد غیبی است ‏ او را نتوان گفت کجا هست و کجا نیست‏
این نیستی هست نما را به حقیــــــــقت‏ در دیده ما و تو بقا هست و بقا نیـــست‏
درویش که در کشور فقــــر است شهنشاه‏ پیش نظر خلق گدا هست و گدا نیـــست‏
بی مهری و لطف از قبل یار بـــه “عبرت” از چیست ندانم که روا هست و روا نیست‏
حقیقت یه هے که خود هیگل بھی اس نکتے کی طرف متوجه تھا که جسے وه جمع نقیضین کهتا هے اس چیز کا غیر هے جسے منطق اور فلسفه ممتنع سمجھتے هیں۔ هیگل کے پیروکار خود هیگل سےزیادہ “هیگلسٹ” نکلے هیں۔ پل فولکیه جدلیات کے کتابچہ میں “هیگل کی جدلیات اور تناقض” کے عنوان کے تحت کهتا هے:
“هیگل کےعقیدے میں جدلیاتی روش جس کے مطابق فکرو اندیشه (مثال مطلق) طبیعت اور ذهن میں واقعی صورت قبول کرتی هے ، تناقض کی بنیاد پر مبنی هے۔ لیکن ضروری هے متوجه هوں که هیگل کی جدلیات اصل عدم اجتماع ضدین کو کلی طور پر رد نهیں کرتی هے۔ اس لحاظ سے قدیم جدلیات کے ساتھ جو اصل عدم اجتماع ضدین کو اپنی اصلی بنیاد جانتی هے، کوئی فرق نهیں رکھتی۔ … هیگل اگرچه ظاهراً اس کے برخلاف اظهار کرتا هے لیکن باطن میں باقی تمام لوگوں کی طرح اصل عدم اجتماع ضدین کو قبول کرتا هے۔ …”96
پل فولکیه کتاب مابعد الطبیعه کے صفحه نمبر 369 پر کهتا هے که:
“…۔ خود هیگل بھی اس چیز کے برعکس جو کبھی کبھار اس کی طرف نسبت دی جاتی هے کہ هیگل اجتماع متناقضین کے ممتنع هونے کا قائل تھا۔ اجتماع اور ارتفاع نقیضین کے باب میں اس کی یه بات ظاهری تناقض سے مربوط هے نه واقعی۔ هیگل اس بات کا قائل تھا که جو چیز انسانی فکر میں واقعاحقیقی هے همیشه حقیقی ره جاتی هے اور وه چیز بعد کی تمام تالیفات کے ضمن میں قرار پاتی هے اور فکری پیشرفت سے مراد تنها علم کے ان حصوں کو دور کرنا هے جن کے غلط هونے کے بارے میں علم هو۔ 97

عمومی حرکت کے مفهوم کی وضاحت

جیسا که هم جانتے هیں که مادی علوم میں تحقیق کرنے والے سائنسدان وں نے ایک زمانے میں ماده(جسم کے غیر قابل تجزیه ابتدائی اجزاء) کو موضوعِ بحث قرار دے کر اس کی مختلف خصوصیات سے بحث کرتے تھے اور باوجود اس کے که بحث کی راه ادراک اور تجربه پر منحصر نهیں تھی پھر بھی اس بحث کو ادراک اور تجربے کے ذریعے آگے بڑھاتے تھے ۔
اسی روش کی بنا پر ان سائنسدانوں کے مطابق“قضیه” کا مفهوم (حمل- یه وه هے)جیساکه هم نے مقاله نمبر 1 میں اس بات کا تذکر دیا هے ، اس مفهوم کا غیر هے جو قضیے سے عمومی مفاهمت کے دوران همارے هاتھ آتا هےمثلا کها جائے که “انسان کھانا کھاتا هے” یا “پانی حرارت کی وجه سے بخار میں تبدیل هوتا هے” تو ان سائنسدانوں کے مطابق ان کا معنی یه هے که ماده کے تجزیه ناپذیر اجزاء کا مجموعه جسے لوگ “انسان” کا نام دیتے هیں کھانا کھانے کی خصوصیت رکھتا هے۔ اسی طرح مادی اجزاء کا مجموعه جسے پانی کها جاتا هے بخار میں تبدیل هو تا هے۔
جیساکه واضح هے اس صورت میں تأثیر اور تأثیر پذیری کی خاصیت مادے کی هے اور خصوصیات کا موضوع بھی وهی ماده هی هے جو مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص اثر اور خصوصیات کا حامل هوتا هے۔ حالانکه لوگوں کےپاس یه خصوصیات انسان اور پانی کی هیں چاهے وه مادے کے بارے میں علم رکھتے هوں یا نه رکھتے هوں۔(1)

(1) قدیم اور جدید (Ideology) کو مکمل طور پر ایک دوسرے سے متمائز کرنے والے بنیادی مسائل میں سے ایک “صور نوعیه” هے۔ یه مسئله بهت هی اهمیت کا حامل هے ۔ مطلب کی وضاحت کے لئے ضروری هے مقدمةً کچھ باتیں ذکر هو
ں۔
دوسرے لفظوں میں هم نوعی صورتوں “انسان”، “گھوڑا”،”درخت” اور “پانی” اور اس طرح کے دوسری چیزوں کو موضوع قرار دیتے هیں اور ایک طبیعی سائنسدان مادے کو موضوع قرار دیتے هیں۔

جیساکه هم جانتے هیں قدماء کائنات کے موجودات کی ایک خاص طریقے سے تقسیم بندی کرتے هیں ۔ ان کے مطابق موجودات (ممکن الوجود موجودات) جوہر اور عرض میں تقسیم هوتے هیں ۔ تمام جواهر ایک مقوله کی حیثیت رکھتے هیں یعنی ایک ذاتی اور ماهوی مابه الاشتراک میں جمع هوتے هیں ۔ لیکن اعراض مجموعاً 9 (نو) مقولات کے تحت جمع هیں اور هر مقوله دوسرے سے متبائن هے۔
جواهر جو سب کے سب ایک مقولے کے تحت داخل هیں اور ایک مشترک ذات میں جمع هوتے هیں بھی مختلف انواع اور اقسام رکھتے هیں یعنی اس کے باوجود که ایک ذاتی اور عمومی امر میں مشترک هیں کچھ دوسرے ذاتی امور میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے هیں۔ مثلا جوهر ،جسم اور غیر جسم میں تقسیم هوتا هے اور جسم، نامی اور غیر


پاسخی بگذارید