دانلود پایان نامه

دیکھتے هیں که موجودات کے کئی گروه هیں۔ هر گروه پهلے گروه کی خصوصیات کے علاوه کچھ اضافی خصوصیات بھی رکھتا هے۔ پس نهیں کهه سکتے هیں که موجودات کا ارتقائی سلسله صرف تحول هے بلکه موجودات کے هر طبقے میں ایک جدید امر تخلیق هوا هے۔دوسرے لفظوں میں صرف ایک توانائی کا دوسری توانائی میں تبدیل هونا نهیں هے بلکه ایک نئی توانائی بھی ایجاد هوتی هے اور خلاقیت کی قوت استعمال هوتی هے جس کی وجه سے نئی پیدا هونے والی توانائی کے لئے قدیم توانائی علت بنتی هے…۔”118
فلسفی مسئله”صور نوعیه” دو ارکان پر مشتمل هے: ایک سائنسی اور دوسرا فلسفی، البته خود مسئله فلسفی هے؛ یعنی ایک قسم کا فلسفی استنباط هے اور مسائل فلسفه کو غیر فلسفه سےشخیص دینے والے معیار- اصول فلسفه کی جلد اول میں تشریح کی گئی هے- کے مطابق یه مسئله، فلسفی هے۔ لیکن جن ارکان پر اس مسئلے کی بنیاد رکھی گئی هےان میں سے ایک علمی هے یعنی سائنسی حدود سے مربوط هے اور دوسرا رکن خود فلسفه کی حدود سے مربوط هے۔
اس کا سائنسی رکن ، موجودات کے آثار اور خصوصیات کا مختلف هونے کے بارے میں سائنسی مشاهده هے۔ فیزکس جو که بے جان مادے کی قوتوں سے بحث کرتا هے ایک طرح سے گواهی دیتا هے، کیمسٹری عناصر کے ترکیبی میلان کو مدنظر رکھتے هوئے اسی طرح حیاتیات ، حیاتی آثار کی بنیاد پر(مخصوصا مادے میں حیاتی طاقت،حکومت اور تصرف کی اصالت اور بالاخص جانداروں میں پیشرفت کے حوالے سے موجود ارتقائی قانون)مختلف طریقوں سے اس مدعا پر گواهی دیتے هیں۔ هم جس قدر اپنے مطالعات کو اس کے بارے میں تقویت دیں اس نظریے کے بارے میں همارے استدلال کا ماده قوی هو جائیگا۔
پس جیساکه واضح هے غلطی اور لغزش مادی فلسفه اور اس فلسفه کے قائلین کی غلط فلسفی تعبیر سے مربوط هے۔ طبیعی علوم اور علمی بحث سے اس کا کوئی تعلق نهیں هے۔

مورد تحقیق مسئله کا فلسفی رکن ، آثار اور خواص اسی طرح مختلف قوتوں اور توانائیوں کے موجود هونے سے حکایت کرتا هے۔ یه قوتیں اور توانائیاں نه مادے سے جدا اور مستقل هیں اورنه هی مادے کے مقابلے میں ایک عنصر یا مکمل طور پر طبیعت سے خارج کوئی وجود رکھ سکتی هیں اور نه مادے کے لئے ایک عرض اور خاصیت کی شکل میں بلکه ایک حقیقت کا جوهری کمال اور عالی نمونه کی صورت میں جسم اور بُعد کے چهرے کا ایک رخ اور جهت هیں اس جهت سے تمام اشیاء یکساں اور مماثل هیں ۔ اس چهرے کا دوسرا رخ قوه عقل اور فلسفی استدلال کےذریعے کشف کیا جا سکتا هے البته اس کی حقیقت کو تشخیص نهیں دے سکتے هیں(حکماء تقریبا اس نظر پر متحد هیں که صور نوعیه کی ماهیت تشخیص نهیں دی جا سکتی اس وجه سے اشیاء کی ماهیت کا کشف کرنا ممکن نهیں هے صرف اتنا معلوم هے که ماهیتیں مختلف هیں)، اتنا جانتے هیں که اشیاء کے چهرے کا یه رخ دوسرے سے مختلف هے اور ان دونوں کا مجموعه ایک جوهر کو وجود میں لاتا هے۔اس ضمن میں اس مطلب کا جاننا بھی ضروری هے که حکماء کی نگاه میں هر شئ کا تشخص اور وحدت کا معیار اس کی صورت نوعیه هے یعنی هر چیز کا “وہ” هونا صورت نوعیه سے وابسته هے ۔ ماده خود بخود ایک معین اور مشخص موجود کی شکل میں معرض وجود میں نهیں آسکتا ۔
اگر هم ایٹمیزمAtomism کے فرضیے کو بھی ضمیمه کریں پھر صورت نوعیه کے انکار کو مطرح کریں تو مطلب ایک عجیب صورت اختیار کرتا هے : اولاً قضیه یا حمل کا مفهوم –جس طرح متن میں آیا هے- مکمل طور پر بدل جاتا هے ۔ یعنی هم ایک قضیے میں بھی ایک مشخص اکائی پیدا نهیں کرسکیں گے که محمول کی جس کی طرف نسبت دے سکیں۔ بنابراین،“انسان کھانا کھاتا هے” کا مفهوم یه هوگا که ماده کے غیر قابل تجزیه اجزاء کا مجموعه جسے لوگ “انسان” کهتے هیں کھانا کھانے کی خصوصیت رکھتا هے۔ بلکه حرکت عمومی (البته حرکت مکانی)کے فرضیه کی بناپر جو چیز بھی هے وه حرکت هے جس کی رو سے “انسان کھانا کھاتا هے” کا مفهوم یه گا که هم حرکات اور لهروں کے مجموعے کو “انسان” نام دیتے هیں پھر اس مجموعے کی بعض حرکات اور لهروں کو موضوع فرض کرتے هوئے باقی حرکات اور لهروں کو اس مجموعے کی طرف نسبت دیتے هیں ۔
بهر حال حمل دو چیزوں کے درمیان میں حقیقی وحدت کا ذریعه یا دوسرے لفظوں میں دو مفاهیم کے درمیان وجودی اتحاد کا معنا نهیں هو سکتا هے۔ اس مطلب کی توضیح متن میں دی گئی هے۔
اب همیں حرکت عمومی کی کس طرح وضاحت کرنی چاهئے؟
جیساکه مقاله نمبر 5 میں اشاره هوا اور اس کے بعد بھی بیان هوگا که مادی دنیا میں بهت سارے جوهری انواع موجود هیں اعراض اور خصوصیات ان کے وجودات کے جلوے اور ان کے موجود هونے کی حکایت کرتے هیں۔
دوسری طرف سے حس اور تجربه گواهی دیتے ہیں کہ جوهری صورتیں ایک دوسرے میں تبدیل هونے کی قابلیت رکھتی هیں اوراس مقاله کے ابتداء میں بھی هم نے یه ثابت کیا هے که اس طرح کی تبدیلی امکان اور فعلیت کی بساط میں وسعت اور بلاخره حرکت کےتحقق کا لازمه هے۔اس کے علاوه حس کی گواهی کے مطابق کائنات میں دوسری حرکتیں مانند مکانی حرکتیں موجود هیں۔
ان چند مقدموں سے یه نتیجه لے سکتے هیں که:
کائنات کے جوهری موجودات شخصی وجود کے حساب سےبغیر اس کے که ایک دوسرے سے جدا اور الگ هوں ایک وجودی ترکیب رکھتے هیں جس کی وساطت سے یه تمام ایک وسیع و عریض اکائی کو تشکیل دیتے هیں جو بالذات متحرک هیں اور خواص اور اعراض بھی جو ان کے وجود سے باهر نهیں هیں اس کے وجود کے طفیل تبدیلی کی حالت میں هوتے هوئے ایک بڑے قافلے کی مانند همیشه ارتقاء کی راه پر گامزن اور مقصد نهائی کی طرف
رواں دواں هیں۔
گذشته بیان سے مندرجه ذیل نتیجے لے سکتے هیں:
1 – طبیعی انواع کی ذوات اور جوهر میں حرکت هے۔
2 – خارجی انواع کے اعراض اور خواص بھی عنصری اور مرکب انواع کی مانند ساکن نظر آنے کے ساتھ اپنے جوهر کی پیروی کرتے هوئے متحر ک هیں۔
3 – هر نیا جوهری وجود اس وسیع و عریض حرکت کا ایک مخصوص حصه هے جو اپنے سے پهلے اور بعد کے وجودسے واقع کے لحاظ سے جدا اور الگ نهیں هے اگرچه هم اسے دوسروں سے الگ ایک موجود فرض کرتے هیں بالکل زمان کے ٹکڑوں کی طرح جو دن اور رات کی تاریکی اور روشنی کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا شمار هوتے هیں حالانکه ایک ممتد اور متصل حرکت سے زیاده نهیں هیں۔
4 – دیگر محسوس حرکتوں کو جیسے حرکت مکانی ،مذکوره جوهری حرکت کو مد نظر رکھتے هوئے لازمی هے “حرکت میں حرکت” کے طور پر قبول کریں۔
5 – چونکه هر حرکت کوئی غایت رکھتی هے جیساکه گذر گیا، اس جوهری حرکت کی آرامش اور سکون بھی جسم کے امکان کا فعلیت حاصل کرنے کے ساتھ مربوط هے یعنی ایک ثابت جوهر(ماده اور حرکت سے خالی جوهر) میں تبدیل هونے کے ساتھ مربوط هے۔ نتیجے میں “ماده سے خالی هونا” حرکت جوهری کی غایت هے۔
6 – کائنات میں مطلق سکون (کسی چیز کا حرکت نه کرنا جو حرکت کر سکتی هے)نهیں هے۔ کیونکه طبیعت کا وجود خارجی اپنے توابع کے ساتھ حرکت کے مساوی هے۔ هاں یه حقیقت نسبی سکون کے پیدا هونے کے ساتھ جس کی حس تأئید کرتی هے کوئی منافات نهیں رکھتی ۔
حرکت میں کھینچاؤ (امتداد)
حرکت کے موضوع میں هونے والی گفتگو سے واضح هوتا هے که هر حرکت (خود بخود)اس خصوصیت کی حامل هے که کچھ حصوں میں تقسیم هوجائے جن میں سے هر حصه اپنے بعد والے حصه کی نسبت فعلیت کا امکان رکھتا هے۔ اسی طرح ان حصوں میں سے هر ایک کچھ اور حصوں میں تقسیم هوجاتے هیں اسی طرح امکان اور فعلیت کی اس داستان کا سلسله جاری رهتا هے۔
اسی وجه سے مفروضه حرکت ایک قسم کا کھینچاؤ(امتداد- بُعد) پیدا کرتی هےجو جسمانی ابعاد سے بے شباهت نهیں هے اس تفاوت کے ساتھ که مفروضه حرکت کے اجزاء جسمانی ابعاد میں ایک هیں لیکن حرکت میں مشاهده هونے والے بُعد کے اجزاء میں سے جو بھی فعلیت پیدا کرے اس سے پهلے والا جزء ختم هوا هے اور بعد والا جزء ابھی وجود میں نهیں آیا هے۔حرکت کو اس صفت کے ساتھ ملاحظه کرتے هوئے حرکت قطعیه نام دیا جاتا هے۔
اس حالت میں حرکت ناگزیر مسافت کے اجزاء کےساتھ ایک نسبت پیدا کرے گی۔ اگر مذکوره نسبت سے صرف نظر کریں اور جسم کے مبدا ء اور منتها کے درمیان غیر ثابت حالت کو ملاحظه کریں تو مذکوره حرکت امتداد کو کھو دےگی اور ایک ثابت اور بسیط (بے تغییر اور بے اجزاء) حالت پیدا کرےگی اور حرکت کو اس وصف کے ساتھ ملاحظه کرتے هوئے حرکت توسطیه کا نام دیا جاتا هے۔
پس حرکت مذکوره بالا دو نظریوں کے مطابق دو طرح سے قابل تصور هے: قطعیه اور توسطیه۔ یه جاننا ضروری هے که حرکت کے یه دونوں معنی دو مختلف جهت سے خارج میں موجود هیں لیکن جسے هم ایک مجتمع الاجزاء اکائی کی شکل میں دیکھتے هیں جیساکه بارش کا قطره جب گرتا هے تو هماری حس میں ایک قسم کا خط ترسیم هوتا هے جو خارجیت نهیں رکھتا اور صرف همارے خیال میں ایسا دکھائی دیتا هے۔
زمان اور حرکت
عرصه دراز سے فلاسفرز، مادی حوادث کے حدوث میں زمان کو دخالت دیتے تھے اور کهتے تھے که کسی بھی حادثے کا حدوث کچھ علل، معدات اور شرائط کے تحقق کا نیازمند هے۔ انهی شرائط میں سے ایک زمان کے ایک حصے کا بھی متحقق هونا هے تاکه مفروضه موجود زمان کے اس حصے میں قرار پاسکے کیونکه جوهری وجود اگرچه جوهر اور ثابت هے (قدیم فلاسفرز جسمانی اور جوهری موجودات کو ثابت اور بے حرکت جانتے تھے اور ایک صورت کے دوسرے صورت میں تبدیل هونے کو کون و فساد سے توجیه کرتے تھے نه حرکت جوهری کےذریعے ) لیکن اپنی خلقت اور وجود کے دوران کبھی بھی عرضی حرکات کے ایک سلسلے سے خالی نهیں هوتا تاکه زمان کا محتاج نه هو۔
اسلامی فلاسفرز میں سے صدرالمتالهین نے گیارویں صدی هجری میں “حرکت جوهری” کو ثابت کرنے کے ذریعے جسمانی عوارض کے علاوه خودجسمانی جوهر کے لئے بھی جوهریت میں زمان کی طرف محتاج هونے کو ثابت کیا هے؛یعنی زمان خارجی اشیاء کی حقیقت سے باهر نهیں هے اور صرف ظرفیت کی ارزش نهیں رکھتا۔
اور حال هی میں سائنسی ابحاث نےبھی فلسفے کی مانند مادیات کی حقیقت میں زمان (بُعدرابع) کی دخالت کو قبول کیا هے اگرچه خود زمان کی حقیقت سے بحث نهیں کی ہے اور صرف اس کے مفهوم کی وضاحت پر اکتفاء کیا هے۔ ممکن هے یه روش کبھی غلطی کا سبب بنے اور حقیقت میں یه کام فلسفے کا هے نه که سائنس کا۔
زمان سے متوسل هونا صرف فلاسفرز کا کام نهیں هے بلکه انسان نے پهلے دن سے هی اپنے کاموں کا جو مختلف حرکات رکھتے هیں زمان کے ذریعے اندازه لگایا هے۔ دن،مهینه اور سال کے ذریعے اپنے امور کی تطبیق دی هے اور تاریخ کی ابتداء اور آغاز پر بھی علم حاصل کیا هے۔
نسبتا چھوٹی حرکتوں کا دن اور رات کے چھوٹے حصوں مانند “صبح سویرے سے چاشت کے وقت تک،چاشت کے وقت سے دوپهر تک،صبح کے ستارے کے طلوع سے صبح تک” کے ذریعے اندازه لگاتا هے۔ آج کا ترقی یافته انسان جو زیاده شهری زندگی اور تهذیب و تمدن کا حامل هے “گھڑی” جیسے ابزار جو دن اوررات کی حرکت سے مطابق آنے والی حرکت رکھتے هیں مانند پن گھڑی، ریت گھڑی ، سورج گھڑی اور آخر کار معمولی گھڑی کو بنانے کے ذریعے آج کل باریک حرکتوں کو آخری درجے تک جتنا هماری حس قوت ضبط رکھتی هے، اندازه لگاتا هے اس حوالے سے
ساده لوح انسان بھی کسی سے پیچھے نهیں هیں وه بھی اپنے درمیان بهت ساری چھوٹی حرکتوں کو اپنی فطری هوش کے ذریعے دوسری حرکتوں سے اندازه لگاتے هیں۔ هم بھی فطرتاً کبھی اس کام کو کرتے هوئے هر چھوٹی حرکت کا اندازه لگاتے هیں جیسے “ایک گھونٹ پانی پینے کی مدت”، “اٹھنے اور بیٹھنے کی مقدار” اور “پلک جپکنے کی مقدار”۔
ان اندازوں کے اطراف میں غورو فکر کرنے سے معلوم هوتا هےکه ایک معین حرکت کو حرکت کی تیزرفتاری ، سست رفتاری ، طولانی اور کم مدت کی تشخیص کے لئے میزان قرار دیتے هیں ۔ چنانچه لمبائی کو لمبائی ناپنے کا آله ، وزن کو وزنی پیمانوں کے ذریعه اسی طرح مقداری چیزوں کو اسی جنس سے مربوط پیمانوں جیسے گرمی، هوا، پریشر اور وولٹیج کی مقدار معین کرنے والے آلات کے ذریعے اندازه لگاتے هیں اور حرکت کو بھی حرکت کے پیمانے کے ذریعے اندازه لگاتے هیں جو وهی “زمان” هے ۔ چونکه دن اور رات کی حرکت


دیدگاهتان را بنویسید