منتقل هوتا هے اور اس مسافت کو 10 منٹ میں طے کرتا هے ۔یهاں هم دو طرح کے امتداد اور لچک کی تشخیص دیں گے :
پهلا یه که یه حرکت 100 میٹر کی هے جبکه ممکن تھا یهی حرکت 50 میٹر کی هو جو موجوده حرکت سے کندتر اور آهسته هو اس صورت میں لازمی طور موجوده حرکت سے کوتاه اور کمتر هو گی ۔ اور یه بھی ممکن تھا که یهی حرکت 200 میٹر کی هو جوموجوده حرکت سے تیز رفتار اور سریع تر هو اس صورت میں لازمی طور پر موجوده حرکت سے طولانی هوگی۔
دوسرا یه که حرکت 10 منٹ کی هے جبکه ممکن تھا یهی حرکت 5 منٹ کی هو یعنی اسی مسافت کو 5 منٹ میں طے کرے اس صورت میں حرکت تیز رفتار اور سریع هونے کے ساتھ ساتھ کوتاه بھی هوگی اور ممکن هے یهی فاصله 20 منٹ میں طے کرے اس صورت میں حرکت آهسته اور کندتر هونے کے ساتھ ساتھ طولانی بھی هوگی۔
پس یه سمجھ میں آتا هے که حرکت دوطرح کی لچک اور امتداد رکھتی هے ۔ ایک مسافت کے ساتھ منطبق آتی هے اور دوسرا زمان کے ساتھ۔ کمیت اور اجزاء میں تقسیم هونے کی قابلیت رکھنے کی وجه سے اس حرکت کو “لچک” اور “امتداد” کها جاتا هے۔
هم عام طور پر ان دو امتدادوں کو دو “ظرف” کے عنوان سے تعبیر کرتے هیں : ظرف مکان اور ظرف زمان۔ مثلا هم کهتے هیں که فلان حرکت فلان مسافت اور فلان مدت میں انجام پائی اور چونکه همارا تصور حرکت، زمان اور مکان کے بارے میں ظرف اور مظروف کے تصور کی طرح هے ۔

لهذا اگر هم اسی حصے کو مزید دو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں تو مفروضه جسم کا مکان بھی مزید دوحصوں میں تقسیم هوجائے گا۔ اگر هم ان دوحصوں کو متحد کریں تو مکان بھی متحد هوجائے گا۔

هم ابتدائی طور پر یه گمان کرتے هیں که جس طرح تمام ظرف اور مظروف ایک دوسرے کی نسبت استقلال رکھتے هیں ۔ یعنی ظرف ایک وجود رکھتا هے اور مظروف ایک اور وجود۔ مثلا پانی گلاس کی نسبت جس میں پانی هے ایک مستقل وجود رکھتا هے اور گلاس بھی ایک الگ وجود رکھتا هے۔ وه زمان اور مکان جس میں حرکت واقع هوگئی هے حرکت سے الگ اور جداگانه وجود رکھتے هیں پس حرکت واقع هو یا نه هو اس حرکت کا ظرف یعنی وه مسافت جس میں یه حرکت واقع هو گئی هے اور وه زمان جس میں یه حرکت واقع هو گئی هے هر صورت میں وجود رکھتے هیں۔
لیکن اس طرح کا تصور ایک ابتدائی اور غیر علمی تصور هے حرکت کی واقعی مسافت اور واقعی زمان حرکت کے لئے مختلف بُعد کے سوا نهیں هے ۔ اور کسی صورت میں بھی حرکت سے الگ اور جداگانه وجود نهیں رکھتے هیں۔ جس طرح جسم کے ابعاد ثلاثه جسم سے الگ وجود نهیں رکھتے وه مسافت اور زمان جو واقع میں حرکت کے امتداد هیں اُس مسافت اور زمان کا غیر هے جسے هم ابتدائی تصور میں ظرف خیال کرتے هیں ۔ مثلا هم کهتے هیں تهران سے قم تک کی حرکت کی مسافت 144 کلومیٹر هےجو هر حال میں موجود هے۔ اور هر دن سینکڑوں گاڑیاں اس سے گذرتی هیں اور حرکت کا زمان بھی وهی دو گھنٹے هیں (مثلا 10 سے 12 تک) بهر حال زمین کے اپنے گرد حرکت کے 12/1 برابر هے ۔ اور اس خاص زمان میں لاکھوں دوسرے حوادث بھی رونما هوتے هیں ۔
یه مسافت اور زمان جو همارے ابتدائی تصور میں هے حرکت کی واقعی مسافت اور زمان کی مقدار کو جاننے اور ناپنے کا وسیله اورمعیار هے۔ جس طرح میٹر اور فٹ کپڑا یا کسی اور چیز کی مقدار معلوم کرنے اور ناپنے کا وسیله هے نه که اس کپڑے کی عین مقدار هے۔ وه مسافت اور زمان جسے حرکت کے لئے دو طرح کے امتداد اور لچک کے عنوان سے تشخیص دیتے هیں حرکت کے ابعاد اور حرکت کا عین وجود هیں ۔

نتیجةً ہم کہہ سکتےہیں کہ جسم حرکت کے دوران دو نقطوں مبداء اورمنتهی کے درمیان هوتا ہے۔(1)یهاں یه سوال پیش آتا هے که آیا یه تقسیم واقعیت رکھنے کے باوجود مختلف مکانی اکائیوں پر ختم هوجاتی هے؟

جس چیز کا جاننا ضروری هے یه هے که وه دو امتداد جو هم اپنے ذهن میں حرکت کے لئے تشخیص دیتے هیں واقعی لچک هیں یعنی حرکت کے وجود عینی سے مربوط هیں یا ذهنی اور خیالی هیں اور بشر کے ذهن کی بناوٹ هیں ۔ لیکن واقع اور وجود عینی کی نظر سے حرکت امر بسیط اور بے لچک هے نه مکانی لچک رکھتی هے اور نه زمانی ؟ ہم بعد میں اس جهت سے گفتگوکرینگے۔
(1) جیساکه پهلے بیان هوا همارا ذهن هر حرکت سے دو لچک اور امتداد کو تشخیص دیتا هے ۔ مثلا 10 منٹ کی 100 میٹر حرکت ایک مکانی لچک رکھتی هے جو میٹر کے ذریعے مشخص هوتی هے اور ایک زمانی لچک رکھتی هے جو منٹ کے ذریعے معین هوتی هے ۔ پس هر 10 منٹ کی حرکت ایک منٹ میں انجام پاتی هے۔ یعنی هر ایک منٹ کی لچک هر ایک 10 میٹر کے ساتھ منطبق هوتی هے۔ دوسرے لفظوں میں زمان کی هر 1 منٹ مکان کے هر 10 میٹر کے برابر هے۔هر ایک منٹ کے بعد مکان کے دوسرے حصے میں واقع ہوتا ہے۔ اگر هم زمان کو کم کر لیں مثلا نصف کریں تو مفروضه جسم بھی زمان کے اس چھوٹے حصے میں مکان کے پهلے سے مفروضه حصے سے چھوٹے حصے میں قرار پائے گا ۔ اس زمان کے پهلے اور بعد کا حصه اس مکان میں قرار نهیں پائیں گے۔ اور هم اس زمان کو جسے هم لمحہ سے تعبیر کرتے هیں پھر بھی کم کر سکتے هیں نتیجے میں مکانی حصه جسے هم مسافت سے تعبیر کرتے هیں بھی چھوٹا هو جائے گا۔
آیا هم ایسی جگه تک پهنچ جائیں گے جس میں زمانی حصه (لمحه) چھوٹا هونے کی آخری حد کو پهنچ جائے؟ (جس کے بعد اور چھوٹا نهیں هو سکتا) ۔ اسی طرح مکانی حصه(مسافت) اپنی آخری حد کو پهنچ جائے اور اس کے بعد اس سے چھوٹا فرض نه کرسکیں؟
نهیں ، اس جگه تک نهیں پهنچیں گے ۔ زمان کو جتنا بھی چھوٹا فرض کریں بالآخره لچک اور امتداد رکھتا هے اور دو متقدم اور متأخر جز میں قاب
ل تقسیم هے۔ مسافت بھی اسی طرح هے۔ پس متحرک جسم اس زمان کے پهلے جز میں مسافت کے پهلے جز میں هے اور زمان کے دوسرے جز میں مسافت کے دوسرے جز میں ۔
آسان عبارت میں کیا حرکت مکانی، مکان کے ذره ذره تک پهنچ جاتی هے جن کے ملانے اور ترتیب دینے سے حرکت حاصل هوتی هے۔ جن کا امتداد حس کے ذریعے درک هوتاهے زمان پر منطبق هوجاتا هے۔ یا یه که مذکوره تقسیم ذهنی هے یا اس تقسیم کے طفیل جو مسافت کی شکل میں موجود هے مذکورہ مکانوں کا ذره ذره ظاهر هونا شروع هوتا هے ورنه مذکوره حرکت ایک متصل اور رواں اکائی کے علاوه کچھ نهیں هے؟
چنانچه پهلے بیان هوا اس بحث میں ماده اور توانائی کی تقسیم سے همارا کوئی واسطه نهیں هے۔ هماری نظر اس نظریے کی طرف مرکوز هے جسے هم نظر انداز نهیں کرسکتےہیں اور

یهاں پر هم اس مطلب کی دو طرح سے تفسیر کر سکتے هیں: اول یه که هم کهیں که اس جملے کا معنی که جسم زمان کے ایک حصے میں مکان کے ایک حصے میں قرار پاتا هے ، یه هے که جسم اس زمانی حصے میں اس مسافت کے آغاز اور انجام کے درمیانی فاصلے میں هے اور یه هونا اس طرح هے که هر لمحه مسافت کے ایک حد اور ایک نقطے میں هے اس طرح که پهلے کا حصه اور بعد کا حصه اس حد اور نقطه میں نهیں هے۔ جسم جب تک ساکن هے متعدد لمحوں میں مسافت کے ایک معین حد میں هے لیکن جب متحرک هے تو هر لمحه ایک حد میں هے اور لمحه به لمحه جسم کی مسافت کی حدود تغییر کرتی هیں ۔ اس تفسیر کے مطابق جسم کا اس حالت میں هونا جسے “توسط” یا “آغاز اور انجام کے درمیان هونا “ سے تعبیر کرتے هیں اسی کا نام حرکت هے اور حرکت کی حقیقت اس کے سوا کچھ نهیں هے۔ پس جسم کی حرکت یعنی زمان کے ایک حصے میں مسافت کے آغاز اور انجام میں هونا هے ۔ البته خود یه هونا ایک بسیط امر هے اور کسی قسم کی امتداد اور لچک نهیں رکھتا بلکه یه همارا ذهن هے جو اپنے خیال میں اس بسیط حالت اور بے لچک جسم کے لئے جس کا نام حرکت هے لچک اور امتداد ترسیم کرتا هے۔ جس طرح بارش کا قطره گرتے وقت همارے خیال میں ایک عمودی (لمبائی) شکل ترسیم هوتی هے ۔
دوسری تفسیر یه هے که هم کهیں که اس جمله کا معنی که “جسم زمان کے ایک حصے میں مکان کے ایک حصے میں قرار پاتا هے” یه هے که جسم زمان کے تمام حصوں میں مسافت کے تمام حصوں میں قرار پاتا هے اس طرح سے که اس مسافت میں هونے کا مبداء اس زمان کے آغاز اور انجام اس کے منتهی اور وسط اس کے وسط کے اوپر اوراسی طرح اس مسافت کے تمام زمان پر منطبق آتا هے۔
وه یه هے که ان مفروضه مکانوں میں سے هر ایک امکان کے ساتھ متحد اور ایک هے جس کے نتیجے میں نقطه ابتداء اور انتهاء بھی ایک هے اور ابتدائی نقطه ، جب حرکت شروع هوتی هے اپنی ثبات اور استقرار سے هاتھ اٹھاتا هے اور تبدل اور سیلان کی حالت اختیار کرتا هے اور یه صفت اس وقت تک باقی رہتی هے که دوباره استقرار اور ثبات (نقطه منتهی) کی حالت تک پهنچ جائے۔ (1)

اس تفسیر کے مطابق حرکت سے مراد جسم کا زمان کے تمام حصوں میں مکان کے تمام حصوں میں هونا، هے۔ ( نه که جسم کا زمان کے تمام حصوں میں مسافت کے آغاز اور انجام میں هونا)۔
تفسیر اول کی بنا پر وه جو واقعا وجود رکھتا هے ایک امر بسیط اور بے لچک هے جو زمان کےاول سے آخر تک باقی هے۔ اول میں بھی ، وسط میں بھی اور آخر میں بھی باقی هونےکا معنی یه هے که زمان کے لمحات میں سے جس لمحه کو لے بھی لیں وه اپنے تمام وجود کے ساتھ اس لمحے میں هیں البته هر لمحے میں مسافت کی ایک حد میں ۔ لیکن دوسری تفسیر کی بنا پر وه جو واقعا وجود رکھتا هے لچک رکھنے والا امر هے اور تمام زمان کو گھیرتا هے۔ اس کے اول زمان کے اول کو اور وسط زمان کے وسط کو اور آخر زمان کے آخر کو ۔ اس کا نه تمام نه جز نه اول سے آخر تک باقی هے ۔ اصلا “بقا” کا مفهوم خود اور اس کے اجزاء پر صادق نهیں آتا هے۔ تفسیر اول کی بنا پر حرکت جز نهیں رکھتی هےپوری حرکت ابتداء زمان سے آخر تک وجود رکھتی هے اور جو چیز اول سے آخر تک وجود رکھتی هے وهی جسم کا آغاز اور انجام کے درمیان هونا هے اسطر ح سے که جسم ایک لمحه میں دو حدود میں وجود نهیں رکھتا۔ لیکن دوسری تفسیر کی بنا پر حرکت جز ، لچک اور امتداد رکھتی هے اور یه لچک دار وجود اور لچک دار زمان ایک دوسرے پر منطبق ہوتا هے۔
فلاسفرز حرکت کی تفسیر اول کو حرکت “توسطیه “ اور تفسیر دوم کو حرکت “قطعیه “ نام رکھتے هیں۔
(1) پهلے بیان هوا که جسم کی ماهیت کے بارے میں مختلف نظریات موجود هیں اور جو چیز مسلم اورمورد اتفاق هے یه هے که محسوس اور مشهود اجسام ابعاد ثلاثه کا حامل اور قابل تقسیم هیں ۔ لیکن آیا جو واقعا موجود هے وهی هے جسے هم محسوس کرتے هیں یعنی وه جسے هم پتھر ، لکڑی کا ٹکڑا یا ایک مکعب میٹر پانی دیکھتے هیں اور اسے متصل اور پیوسته مشاهده کرتے هیں آیا واقع میں بھی ایسا هے؟ اگر ایسا نهیں هے پس منفصل اجزاء رکھتے هیں ۔ اگر منفصل اجزاء رکھتے هیں آیا منفصل اور نامحسوس (باریک هونے کی وجه سے) اجزاء بھی ابعاد ثلاثه رکھتے هیں؟ یا ایسے اکائیاں هیں جو بُعد “جوهر فرد” سے خالی هے؟ پس مجموعاً تین نظریے هیں ۔

هاں حرکت کے هر لمحے میں جب هم مفروضه جسم کی طرف دیکھتے هیں تو اسے ایک خاص مکان میں مشاهده کرتے هیں۔ حالانکه اس لمحے سے پهلے اور بعد کے لمحے میں جسم کو اس مکان کے غیر میں مشاهده کرتے هیں اس لحاظ سے ممتد اور رواں مکان مختلف ذروں میں تقسیم هوتا هے لیکن یه تقسیم اعتباری اور خیالی هے خارج میں کوئی واقعیت نهیں رکھتی ۔ کیونکه ان کی پیدایش سے حرکت کا تسلسل قطع هوتا هے اور مکانی سی
لان ختم هوجاتا هے۔گذشته بیان سے هم یه نتیجه لیتے هیں که:

تیسرا نظریه وهی نظریه هے جسے اسلامی متکلمین نے پیش کیا هے۔ اسلامی علماء کی اصطلاح میں “جز ءلا یتجزّی” (غیرقابل تقسیم جز) کهلاتا هے ۔ البته اس اصطلاح میں “ جز ءلا یتجزّی” جدیدعلماء کے “ جز ءلا یتجزّی” کی اصطلاح سے مختلف هے۔ جدیدعلماء کی اصطلاح ڈیماکریٹس کے نظریے پر جو قایل هے ذرات باریک سخت اور غیر قابل تقسیم (ذرات صغار صلبه) هیں لیکن ابعاد ثلاثه رکھتے هیں پر منطبق آتی هے۔
بهر حال جسم کے بارے میں ایک نظریه یه هے که جسم چھوٹے چھوٹے ذرات سے جو ابعاد سے خالی هے مرکب هوتا هے۔ یه نظریه جسم سے مختص نهیں هے بلکه هر وه چیز جو ابعاد رکھتی هے اس میں بھی جاری هےمانند زمان اور حرکت ۔ “جز ءلا یتجزّی” کے حامیوں کے عقیدےمیں

دسته بندی : پایان نامه ها

دیدگاهتان را بنویسید