کا اجتماع جائز نهیں هونا هے۔ اس لحاظ سے ذهن هستی سے باهر یعنی هستی کے اوپر ایک ناظر کی حیثیت سے کھڑا هے اور ایک نسبت کو هستی اور واقع سے باهر لے جاتا هے اور هستی کے دامن کو اس نسبت سے خالی کرتا هےاور اس کے لئے کوئی مصداق باقی نهیں دیکھتا هے۔
لیکن عدم ایک اور اعتبار بھی رکھتا هے جو ایک قسم کا “مجاز” هے۔ ذهن ایک چیز کو خارج سے نفی اور سلب کرنے کے بعد جب اس کے لئے مصداق اور نفس الامر نهیں پاتا هے تو اس طرح اعتبار کرتا هے که خود نفی اور سلب نے ایجاب اور اثبات کی جگه لے لی هے۔ یعنی جب ایک خاص شئ کے وجود کو خارج میں نهیں دیکھتا هے تو اس وجود کے نقطه مقابل کو جو حقیقتا خارج میں اس وجود سے خالی هونے کے سوا کچھ نهیں هے ایک ایسے امر کے عنوان سے جس نے وجود کی جگه لے لی هے، اعتبار کرتا هے اور فرض کرتا هے که اس شئ کا عدم خارج میں هے۔ اسی اعتبار سے هے خارج هستی اور نیستی کو شامل کرتا هے یعنی نیستی بھی هستی کی طرح خارجیت پاتی هےالبته نیستی کا خارجیت پانا اعتباری هے۔ اور اسی فرضی اور مجازی اعتبار جس کی وجه سے “عدم” واقعیت پیدا کرتا هے اور اس کے لئے زمان اور مکان کا بھی اعتبار کیا جاتا هےاور وجود کے احکام کی طرح کچھ مخصوص احکام کا مالک بن جاتا هےاس اعتبار سے که هم کهتے هیں زید خارج میں معدوم هے یا کهتے هیں که معدوم زید اس زمانے میں یا اس مکان میں هے۔ پس “زید خارج میں موجود نهیں هے” کا مفهوم اور “ معدوم زید خارج میں هے” کے درمیان فرق هے۔ پهلے قضیه میں نفی اپنا اصلی مفهوم رکھتا هے جو خارج سے وجود کو نفی کرنا هے لیکن دوسرے قضیے میں عدم ایک مثبت مفهوم کی طرح حمل هوا هے اور ربط السلب کا مفهوم حاصل کیا هے۔
اس اعتبار سے مراتب وجود میں سے هر ایک دوسرے مرتبه کے عدم کا مجازی اور اعتباری مصداق شمار هوتے هیں۔کیونکه بدیهی هے که عدم واقعی مصداق نهیں رکھتا، هر چیز کے عدم کا مصداق دوسری تمام چیزوں کا وجود هے۔ اصطلاح میں وجود کا هر مرتبه دوسرے مرتبے کا “نه هونے کو ترسیم کرتا” هے۔73
اب جب ان دو حیثیتوں کے بارے میں علم هوا اور جان لیا که عدم ایک اعتبار سے کسی قسم کا نفس الامر نهیں رکھتا اوراس کے لئے کسی قسم کی خارجیت اعتبار نهیں کی جا سکتی ، وجود کا نقیض هے۔ لیکن دوسری اعتبار سے مجازاً نفس الامر اور واقع رکھتا هے اور خارجی وجودات اس عدم کے مصادیق فرض هوتے هیں اور عدم ان کے لئے راسم کی حیثیت رکھتا هے۔ اس اعتبارسے عدم مجازاً ایک واقعیت رکھنے والی شئ اعتبار هوتا هے اور فلاسفرز کا یه کهنا که “شدن” میں وجود اور عدم ایک دوسرے سے مخلوط هے کا معنی اور مفهوم واضح هو جاتا هے۔ لیکن ضروری هے که پهلے حرکت اور “شدن” کے بارے میں وضاحت کی جائے تاکه مطلب مزید واضح اور روشن هو جائے۔
“شدن” سے مراد تدریجی اور سیال وجود هے۔ تدریجی وجود ایک مدت میں ایک قسم کی لچک اور امتداد رکھتا هے ، دقیق الفاظ میں زمان ایک خاص لچک اور امتداد سے، جو اشیاء کابتدریج قوه سے فعل کی طرف خارج هونے سے وجود میں آتا هے، حاصل هوجاتا هے۔ اسی لئے ذهن ان اشیاء کو اجزاء اور مراتب میں جو ایک دوسرے کی نسبت تقدم، تأخر ، قوه اور فعلیت کی نسبت رکھتے هیں اور ان کے درمیان کسی قسم کی معیت نهیں هوتی ، تجزیه کرسکتا هے۔ یه اجزاء اور مراتب معیّت نه رکھنے کی وجه سے ایک دوسرے سےفاقد هیں۔ ان میں سے هر ایک کے بارے میں یه کهنا صحیح هے که ان میں سے هر ایک دوسرے میں نهیں هے- اسے جدلیات کے معتقدین کو خوش کرنے کے لئے “دوسرے کا عدم ” سے بھی تعبیر کیا جا سکتا هے – بنابراین هر جز کے بارے میں دوسرے کا عدم صدق آتا هے۔ دوسرے لفظوں میں پهلے جز کے مرتبه میں بعد کا جز وجود نهیں رکھتا یعنی معدوم هے یعنی پهلے جزء میں بعد کے جزء کا عدم ثابت هے ۔ اسے جدلیات کے قائلین کو خوش کرنے کے لئے “بعد کا جز پهلے جز کی نفی کرتا هے” سے تعبیر کیا جا سکتا هے اور بعد کے جز کے مرتبے میں پهلا جز وجود نهیں رکھتا بلکه اس مرتبه میں اس کا عدم ثابت هے۔
دوسری طرف سے هم جانتے هیں که ایک “لچکدار جسم” میں لحاظ هونے والے اجزاء اور مراتب محدود نهیں هیں اور تجزیه کی قابلیت بھی ایک معینه حد تک متوقف نهیں هوتی هے بلکه هر جزء اپنے حساب سے کچھ اجزاء میں تقسیم هوجاتا هے که ان اجزاء میں سے هر ایک پر اپنے سے پهلے اور بعد کے جزء کا عدم صادق آتا هے۔ پھر یه اجزاء بھی چھوٹے اجزاء میں اور وه بھی اس سے چھوٹے اجزاء میں تا غیر نهایه قابل تجزیه هیں۔ بنابراین تا غیر نهایه مراتب اعتبار هوتے هیں اور ان میں سے هر مرتبه اپنے سے پهلے اور بعد کے مرتبه کے عدم کا مصداق فرض هوتا هے اور عدم اور وجود آپس میں اس طرح مخلوط هیں که ایک دوسرے سے تفکیک اور جدا ناپذیر هیں۔74
جو کچھ بیان هوا اس سے معلوم هوا که عدم حقیقت میں وهی نفی اور سلب هے کسی قسم کی خارجیت اور واقعیت نهیں رکھتا هے تاکه وجودات میں سے کسی وجود کےساتھ اجتماع یا اتحاد فرض کیا جائےلیکن دوسری اعتبار سے عدم کے لئے واقعیت اور خارجیت فرض کیا جاتا هے اور اسی جهت سے اس کے لئے ظرف زمان اور ظرف مکان بھی اعتبار هوتا هے اور نسبتوں کا طرف واقع هوجاتا هے۔نیز یه بھی معلوم هوا که عدم کی واقعیت اعتبار دوم کے لحاظ سے اعتباری اور فرضی هے حقیقی نهیں هے ، اس بنا پرعدم کسی صورت میں بھی وجود کے ساتھ قابل موازنه نهیں هے۔اسی طرح یه بھی معلوم هوا که “تدریجی وجودات” اور “شدن” میں اس جهت سے که وجود سیال هے اور کسی قسم کا استقلال نهیں رکھتا یعنی کسی ایسی واقعیت کا حامل نهیں هےجو کسی چھوٹے یا بڑے امتد
اد میں باقی رهے ، اس کا حدوث عین فنا اور اس کی بقا عین گزرنا هے۔ زمان کے جس حصے کی طرف بھی نگاه کریں گذشته اور آئنده میں تقسیم هوجاتے هیں اور ان میں سے هر ایک نیز گذشته اور آئنده میں تقسیم هوجاتے هیں۔ اسی بنا پر اسے جتنا بھی چھوٹا فرض کریں دو میں تقسیم هوجاتا هے جن میں سے هر ایک دوسرے کا مجازاً اور اعتبارا نه هونا هے ۔ اسی وجه سے کها جاتا هے که”شدن “ میں هستی اور نیستی ، وجود اور عدم، اثبات اور نفی مخلوط اور ایک ساتھ هے۔ بدیهی هے که یه ترکیب دو واقعی عناصر کی ترکیب کی طرح واقعی ترکیب نهیں هےبلکه بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو کوئی ترکیب هی نهیں هے۔ ایک سیال وجود هے جس میں عدم کے اعتبار کی قابلیت اس طرح سے هے که وجود اور عدم سیال موجودات میں جدا ناپذیر هیں۔ یه بھی معلوم هوا که اس قسم کا عدم جس کا وجود کے ساتھ مخلوط هونا فرضی هو وجود کا نقیض نهیں هے اور منطق کے اجتماع نقیضین کے قانون کےساتھ بھی اس کا کوئی ربط نهیں هے۔
ب) دوسرا مطلب که جسے جدید جدلیات میں “تناقضات کا اتحاد” اور کبھی “اجتماع ضدین” یا “اجتماع نقیضین” کها جاتا هے “دو متضادچیزوں کا اجتماع” هے جو ترکیب کے سائیے میں وجود میں آتا هے لیکن یه ایک جدید اصطلاح هے تقابل کے باب میں اس کا منطقی اصطلاح سے کوئی ربط نهیں هے۔
منطق کے ماهرین اور فلاسفرز عموماً تضاد75 کو ایک خاص مورد جهاں دو عرض جنسیت میں اشتراک لیکن دو مختلف فصل رکھتے هوں یا اعراض جو ایک هی موضوع اور محل میں اجتماع کا امکان رکھتے هوں استعمال کرتے هیں ۔مثلا جسم کے لئے سیاهی اور سفیدی یا مثلث اور مربع هونا دو ایسی کیفیتیں هیں۔ ممکن نهیں هے که ایک جسم ایک هی وقت میں سیاه بھی هو اور سفید بھی۔ دوسرے لفظوں میں ممکن نهیں هے که ایک هی رنگ سیاه بھی هو اور سفید بھی جس طرح ممکن نهیں هے ایک هی سطح مثلث بھی هو اور مربع بھی دوسرے لفظوں میں ایک هی شکل مثلث بھی هو اور مربع بھی البته ممکن هے سیاه اور سفید هوں یعنی اس جسم کا کچھ حصه سیاه هو اور کچھ حصه سفید لیکن ممکن نهیں هے که ایک معین نقطه سفید هونے کی حالت میں سیاه اور سیاه هونے کی حالت میں سفید بھی هو۔ اسی طرح مخروطی(هرمی)، اسطوانه ای(ستونی) اور دائره شکل ایک دوسرے کا ضد هیں۔محال هے که ایک جسم ایک هی وقت میں ان میں سے دو شکل رکھتاهو۔
گمان نهیں کیاجاتا هے که کوئی اس طرح کے دو ضد کے اجتماع کے ممنوع هونے میں شک کرے۔کیونکه گفتگو کامرکزی نکته یه هے که اولاً: ایک هی جنس ایک هی وقت میں دو فصل کے تعین کو قبول نهیں کرتی هے۔ مثلا رنگ جو که ایک جنس هے ایک هی وقت میں سفید اور سیاه نهیں هو سکتا یا شکل ایک هی وقت میں مثلث بھی هو اور مربع بھی۔ جیسا که حیوان ایک جوهر هے ممکن نهیں هے ایک هی وقت میں انسان بھی هو اور بھیڑ بھی۔
ثانیاً: اس مسئلے کا دوسرا نکته یه هے که ایک هی موضوع “وجود ناعت ” هونے کی جهت سے ایک هی وقت میں ایسے جنس کے ساتھ جوکسی فصل کے ذریعے مشخص هوا هے اسی طرح ایک اور جنس جو کسی اور فصل کے ذریعے مشخص هوا هو متصف نهیں هوسکتاهے اس حوالے سے بھی کوئی شک و تردید نهیں هے۔
اگر کوئی شک اور تردید هے تو اس میں هے که مثلا سفیدی اور سیاهی دو مختلف وجودی کیفیت هونے کی جهت سے جنس میں مشترک اور فصل میں مختلف هو ۔کیونکه سیاهی مثلا عدمی هے وجودی نهیں هے یا بنیادی طور پرتمام رنگ خارجیت نهیں رکھتے هیں۔اور واضح هے که ایسے خدشات اور مناقشات مثال میں مناقشه کی طرح هیں اور علماء کے بقول “مثال میں مناقشه کرنا علماء کی شان نهیں هے”۔
جس چیز کو جدید جدلیات تناقض اور تضاد کا نام دیتی هے اس کی مثال ایسی هے جیسے76 دو قوتیں جو ایک دوسرے کی ضد هیں ایک دوسرے کو ختم کرتیں هیں اور ترکیب کی وجه سے ایک هی شئ میں جمع هوتی هیں ۔ یه مطلب قابل قبول هے کیونکه بنیادی طور پر بلکه ترکیب سوائے ایسے امور کے جو ایک دوسرے کی مخالفت اور دوسری اصطلاح میں تضاد نه رکھتے هوں ممکن هی نهیں هے۔
ساده ترین ترکیب ایسی ترکیب هے جو عناصر اولیه سے تشکیل پاتی هے ۔ عناصر طبعاً ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے هیں اور ایک قسم کا تضاد ان کے درمیان حاکم هے ۔ ماوراء الطبیعی فلسفه کی نگاه سے کلی طور پر“صورتیں” ایک دوسرے سے تضاد رکھتی هیں اور ایک دوسرے کو ختم کرتی هیں۔
کلی طور پر اصل تضاد اصل اجتماع ضدین یا نقیضین کا غیر هے۔ اجتماع نقیضین سے مراد سلب اور ایجاب کا اس معنی میں جسے پهلے تفصیلاً بیان کیا اجتماع هے۔77 اور اجتماع ضدین سے مراد ایک موضوع کا ایک هی وقت میں دو متضاد اعراض کو قبول کرنا هے۔ لیکن تضاد سے مراد اشیاء کا ایک دوسرے کے اثر کو زائل کرنا هے دوسرے الفاظ میں تضاد طبیعت میں موجود جنگ اور کشمکش کا نام هے۔ یه اصل قدیمی ترین اصولوں میں سے هے جسے بشر نے انکشاف کیا هے۔ بهتر هے یهاں پر معروف اسلامی عارف مولانا رومی کے کچھ اشعار پر قناعت کریں:
مولوی کهتا هے:
اين جهان جنگ است چون كل بنگرى ذره ذره همچو ديــن با كافـــری
آن يـــكى ذره همى پـــرده به چــپ و ان دگـــر سوى يمين اندر طلب
جـنگ فعلى جـنگ طبعى جــنگ قول در ميان جزءها حربى اســت هول
اين جهان زين جـــــنگ قائم مى بود در عنــاصر در نگر تا حـــل شود
هــــر ستـــونى اشكنــنــده آن دگر استـــن آب اشكنــنـــده هر شرر
پس بناى خلق بر اضـــــــــداد بود لاجرم جنگى شدند از ضر و سـود
هست احوالت خلاف يكـــــــديگر هر يكى با هـــــــم مخالف در اثر
فوج لشـــــــــگرهاى احوالت
بين هر يكى با ديگرى در جــنگ و كين
آن جهان جــــــز باقى و آباد نيست زانكه تركيب وى از اضـــداد نيست
اين تفانى از ضـــد آيد ضــــــد را چون نباشــــد ضــــد نبود جز بقا
اصل تضاد نه صرف مورد انکار نهیں هے بلکه طبیعت کے اصول اور ارکان میں سے هے اور اشیاء کی پیدائش کے شرائط میں سے هے۔حکماء الهی کهتے هیں که “لولا التضاد ما صح الفیض عن المبدء الجواد” اگر تضاد نه هوتا تو مبداء جواد سے فیض جاری نهیں رهتا یعنی ماده کے لئےجدید امکانات حاصل نهیں هوتیں جس کے نتیجے میں ماده جدید صورتیں حاصل نهیں کرپاتا۔
اصل تضاد کی تاثیر کے بارے میں حکمت الهی کی دیدگاه سے مطالب اس قدر زیاده هیں جن کے بارے میں یهاں بحث کرنا ممکن نهیں هے اور کسی دوسری جگه کے لئے موکول کر دیتے هیں۔78
چوتھا اصل: “اشیاء کی حرکت داخلی تضاد اور تناقض سےوجود میں

دسته بندی : پایان نامه ها

دیدگاهتان را بنویسید