دانلود پایان نامه

آنا اور ختم هونے میں منحصر کرتی هے۔61 (اصل تغییر و عدم ثبات)
ج ) جدلیات ارتقاء اور تکامل کو مقداری تحولات کا ایک ساده سلسله قرار نهیں دیتی بلکه ارتقاء کو پنهانی تغیرات کا مجموعه سمجھتی هے جس میں مقداری تغیرات واضح اور بنیادی کیفیتی میں بدل جاتی هیں۔اینگلز جدلیاتی تکامل جو مقداری تغیرات کا کیفیتی تغیرات میں بدلنے کا نتیجه هے، کو بیان کرتے ہوےکهتا هے62 که: فیزکس میں کسی بھی تغییر سے مراد مقدار کا کیفیت میں تبدیل هونا هے اور مقداری تغییرکا نتیجه اس حرکت کی مقدا ر هے جو بذات خود جسم میں هے یا اس میں وارد هوئی هے۔ مثلا پانی کا درجه حرارت ابتداء میں اس کا مایع هونے کی حالت میں کوئی تاثیر نهیں رکھتا هے لیکن اگر حرارت کو ایک معینه مقدار میں زیاده یا کم کریں تو پانی کے ذرات کی حالت ایک صورت میں بخار اور دوسری صورت میں برف میں بدل جاتی هے۔63 (اصل جهش و تبدل حرکت کمی به حرکت کیفی)
د) جدلیاتی روش کے قائلین معتقد هیں که اشیاء اور مادی موجودات اپنے اندر منفی ، مثبت ، گذشته اور آئنده کی شکل میں مختلف حالات رکھتے هیں۔ ان میں سے هر ایک کچھ عناصر کی باطنی ترکیب کا نتیجه هیں جو رشد اور نمو کی حالت میں هیں یا نابودی اور زوال کے راستے طے کر رهے هیں۔ ان اختلافات کی جنگ یعنی قدیم اور جدید کی جنگ جس میں ایک چیز دنیا سے جارهی هے اورایک چیز دنیا میں آرهی هے۔ در حقیقت تکامل کی اندرونی کیفیات اورمقداری تغییرات کا اتار چڑاؤ هے جو کیفی تغییرات کا باعث بنتا هے اس بنا پر جدلیاتی روش کے قائلین معتقد هیں که پست سے عالی کی طرف ارتقاء موجودات کا هم آهنگ شکل میں پھیلاؤ اور تکامل کا نتیجه نهیں هے بلکه اس کے برعکس اشیاء کے اندر موجود اختلافات کے ظاهر هونے اور ان اختلافات کی وجه سے متضاد تمائلات کے درمیان هونے والی جنگ کی وجه سےهے۔ لینن کهتا هے : “حقیقی جدلیات کا معنی اشیاء کی ماهیت کے اندرونی تضاد کو سیکھنا اورسمجھنا هے۔”64 (اصل تضاد) 65
اب دیکھنا یه هے که هیگل کی جدلیات میں مجموعاً کون سے اصول قابل توجه هیں تاکه ان کی جانچ پڑتال کی جاسکے جو مطالب قابل توجه هیں مندرجه ذیل هیں:
1 – اشیاء کی وحدت اور اتصال اور ان کے باهمی رابطه کا اصل
2 – اشیاء کی حرکت اور تغییر کا اصل
3 – اشیاء کی حرکت کے بالمقابل فکری حرکت اور تغییر کا اصل
4 – احتماع ضدین کا اصل
5 – اشیاء کی حرکت کا سرچشمه ان میں موجود داخلی تضاد ، تناقض اور ناسازگاری هے۔
6 – حرکت اشیاء کی ماهیت سے مراد ایک حالت سے اس کی ضد کی طرف منتقل هونا پھر ان دونوں کی باهمی ترکیب، اس کے بعد ان دونوں کا ایک شئ واحد میں تبدیل هونا هے۔(مثلث “تز، انٹی تز، سنتز”)
بعنوان مقدمه اس بات کی یادهانی ضروری هے که هیگل نه اشیاء میں اصل تغییر کے موجد هیں اور نه اجتماع ضدین کا فرضیه اوراس کے مثلث کاموجد هے۔
اشیاء میں حرکت کا اصل فلسفه کے قدیمی ترین اصولوں میں سے ایک هے اور قدیم یونان میں “هراکلیٹ66 معروف فلسفی کی شهرت اس اصل کی وجه سے هے جس نے اس مطلب کو اس تمثیل کی صورت میں بیان کیا هے” ایک نهر میں دو بار نهیں نها یا جا سکتا” اسی طرح اجتماع نقیضین اور ضدین کو ارتقاء اضداد کے باهمی توافق اور ساز ش کا نتیجه قرار دینا بھی اسی سے منسوب هے ( جسے بعد میں متن کے حاشیے میں اس کے عین تعبیرات کو پل فولکیه کی کتاب سے نقل کریں گے) اسی وجه سے اسے “جدید جدلیات کا باپ” کها جاتا هے۔هراکلیٹ کو “تحول” اور “ تناقض” کے فلسفی کے عنوان سے بھی یاد کیا جاتا هے۔ هیگل نے ادعا کیا هے که اس نے هراکلیٹ کے تمام نظریات کو اپنی جدلیات میں اندراج کیا هے۔
لیکن معروف مثلث “تز، اینٹی تز اور سنتز” جیساکه هم نے پهلے اشاره کیا اور فلسفه کے مورخین نے لکھا هے که هیگل سے پهلے فیچته اور سکیلنگ کے توسط سے بیان هوا هے؛ بلکه پل فولکیه کی نظر کے مطابق اس مثلث کی بنیاد افلوطین نے رکھی هے جو اسکندریه کے فلاسفرز میں سے هیں۔ پھر اس کے بعد چودهویں صدی میں جرمنی کے عرفاء کے افکار میں پیدا کیا جا سکتا هے۔
اب اوپر کے چھے اصولوں کو حکمت اور اسلامی فلسفه کی نگاه سے مورد بحث قرار دیں گے۔67
پهلا اصل68: پهلے هم نے ثابت کیا هے اور بعدمیں بھی توضیح دیں گے که حرکت طبیعت سے جدا نهیں هو سکتی۔ اسی بنا پر ماده اور معروضی طبیعت کی حرکت کا اصل همارے لئے قابل قبول هے۔69
دوسرا اصل:هم نے اس کتاب کی جلد اول میں اس مطلب کے بارے میں تفصیلا گفتگو کرتے هوئے ثابت کیا هے که علم اور ادراک مادی نهیں هے۔ اسی بنا پر قابل تغییر بھی نهیں هے۔ اسی طرح ثابت کیا هے که علم، حضور اور ادراک کی حیثیت تغییر کی حیثیت کے ساتھ سازگار نهیں هے اور ثابت کیا هے که اشیاء کے بارے میں همار طرز تفکر اشیاء میں پیش آنے والے تحولات اور تبدیلیوں کی بنیاد پر هونا چاهئے نه اشیاء میں موجود ثبات اور یکسانیت کی بنیاد پر۔ یه اس بات کا لازمه نهیں هے که خود هماری فکر اور اندیشه بھی اشیاء کے ساتھ ساتھ حرکت میں هو۔افزون بر این یه بھی ثابت کیاهے که افکار اور اندیشه میں پیدا هونے والی تغییرات اور تحولات عقیدے میں تبدیلی کا سبب بنتی هیں اور کبھی کبھار طرز تفکر اور اندیشیه کے اصول و مبادی اور ان کے فکری معیارات تبدیل هوجاتے هیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اس بات کا باعث نهیں بنتا که اندیشه اور فکر ایک مادی موجود کی طرح تغییر سے دچار هو جائے۔
چونکه گذشته مقالا ت میں اس حوالے سے بحث کی هے یهاں اس بحث کو دوباره تکرار نهیں کریں گے۔
تیسرا اصل: اس
اصل کے بارے میں بھی اسی کتاب کی جلداول اور دوم میں تفصیلی گفتگو هوئی هے اور وهاں پر هم نے یه ثابت کیا هے که یه اصل تمام علوم اورانسانی افکار کی اساس اور بنیاد هے اور کسی بھی صورت میں قابل انکار اور تردید نهیں هے۔جس چیز کو جدید جدلیات “اجتماع ضدین یا اجتماع نقیضین ” کا نام دیتی هے منطق اور قدیم فلسفه میں ممتنع اور محال سمجھے جانے والے اجتماع ضدین اور نقیضین سے فرق کرتا هے۔ بلکه جیسا که بعد میں بیان هوگا جس چیز کو جدید جدلیات اس نام سے پکارتی هے نه صرف منطق اور ماوراء الطبیعی فلسفه کی نگاه سے محال نهیں هے بلکه کسی حد تک اس کی تائید بھی کی هے۔اس سے بھی بڑھ کر کافی غور و فکر سے معلوم هوتا هے که جدید جدلیات واقعا اور حقیقتا ماوراء الطبیعی فلسفه اور منطق کے اجتماع نقیضین سے انکار نهیں کرتی انهوں نے صرف ایک ساده مطلب کو بیان کرنے کے لئے سخت اور جوشیلی تعبیر کا انتخاب کیا هے۔ کون هے جو اس بات کو سن کر جوش میں نه آئے اور توجه ان کی طرف مبذول نه هوجائے که کچھ فلاسفه اس بات کا دعوا کریں که اجتماع نقیضین محال نهیں هے بلکه ماده اور طبیعت اسی طرح فکر اور اندیشه کی بنیاد اجتماع نقیضین پر هے ۔حقیقت یه هے که احساس کمتری اور جدیدیت کی طرف شدیدمیلان(Modernization) سبب بنا هے که ایک گروه اجتماع نقیضین سے انکار کا ادعا کریں۔ اس وقت جو کچھ انهوں نے اس عنوان کے تحت بیان کیا هے اصل “امتناع اجتماع نقیضین” سے کوسوں دور هے۔
جس چیز کو جدید جدلیات کی اصطلاح میں “تناقض” یا “اجتماع نقیضین” کا نام دیا جاتا هے مندرجه ذیل دو مطالب میں سے ایک هے:
الف) حرکت کے دوران وجود اور عدم ایک دوسرے کےساتھ جمع هوتے هیں ۔ ایک چیز حرکت کی حالت میں موجود بھی هے اور معدوم بھی۔دوسرے لفظوں میں “واقع هونا”(شدن) جو حرکت کی حقیقت هے وجود اور عدم سے مرکب هے۔
پل فولکیه کهتا هے که:
“هیگل کے فلسفی نظام کا مشهور ابتدئی مثلث “هستی” هےجو موضوع یا تصدیق کے مرحلے سے مربوط هے ۔ لیکن ایسا وجود جو مکمل طور پر مشخص نه هو اور هم یه نه کهه سکیں که یه هے یا وه هے ، عدم کے مساوی هے کیونکه اس کی تصدیق اس کے نفی کا باعث بنتا هے۔پس هم کهتے هیں که: هستی نهیں هے۔ یه نفی بھی نفی هوجاتی هے اور ترکیب کا مرحله آجاتا هے۔ جس کی بنیاد پر هم کهیں گے که : هستی هونے (شدن)کا نام هے۔”70
فی الحال “هستی هے” یا هستی نهیں هے” یا یه که “جو وجود مکمل طور پر مشخص نهیں هے اور هم نه کهه سکیں که یه هے یا وه هے ، عدم کے مساوی هے” کے بارے میں کوئی بحث نهیں هے ۔هماری بحث خود “هونے” (شدن) کے بارے میں هے۔ کها جاتا هے که “شدن” میں هستی اور نیستی دونوں جمع هیں۔
آیا “شدن” هستی اور نیستی سے مرکب هے؟
اسلامی فلاسفرز نے اپنی گفتگو میں بارها اس تعبیر کا ذکر کیا هے که حرکت میں بلکه تمام طبیعت میں – کیونکه طبیعت دائمی حرکت کے سوا کچھ نهیں هے- وجود اور عدم آپس میں مخلوط هیں۔اور کبھی کهتے هیں که “قوه” (جو عدم کی ایک قسم هے) “فعل” کے ساتھ(جو وجود هے) متحد هے۔ دوسری طرف جیسا که آپ نے دیکھا یورپ کی جدید جدلیات بھی اصل تناقض کی سرسخت حامی هے اور مدعی هے که “شدن” نه هستی هے اور نه نیستی بلکه هستی اور نیستی سے مرکب هے۔اب یه دیکھنا هے که فلاسفرز کے یه دو گروه ایک هی مطلب کو بیان کرتے هیں یا نهیں؟71 هر صورت میں آیا یه مطلب ، منطق کی رو سے اجتماع نقیضین ، کالازمه هے یا نهیں؟
یهاں پر ضروری هے هم عدم کے مفهوم اور اس کی حیثیت کے بارے میں تھوڑی سی گفتگو کریں: انسانی ذهن احکام اور تصدیقات میں دو قسم کی حکم کرتا هے : اثباتی حکم جیساکه “زید کھڑا هے” ۔ سلبی حکم جیسا که “زید کھڑا نهیں هے” حکم کی پهلی قسم میں موجود خارج میں ایک قسم کی نسبت هے لیکن دوسری قسم میں اسی نسبت کو رفع کیا جاتاهے۔ دوسرے لفظوں میں قضیه موجبه میں ایک نسبت کے ثابت هونے کا حکم لگاتا هے اور قضیه سالبه میں نسبت کے عدم ثبوت کا حکم لگایا جاتا هے۔قضیه موجبه اور سالبه کا فرق اس میں هے که قضیه موجبه خارج میں ایک ایجابی نسبت سے حکایت کرتی هے اور قضیه سالبه اس نسبت کی نابودی اور خارج کےساتھ مطابقت نه هونے پر دلالت کرتی هےنه یه که ان میں سے هر ایک ، ایک قسم کی خارجی نسبت سے حکایت کرتے هوں۔
منطق کے اسلامی ماهرین میں سے بعض متأخرین نے یه گمان کیا هے که قضیه موجبه اور سالبه میں سے هر ایک، خاص قسم کی نسبت پر مشتمل هے ایجابی نسبت اور سلبی نسبت۔ قضیه موجبه ایک خارجی ایجابی نسبت کے ثبوت سے حکایت کرتی هے اور قضیه سالبه خارجی نسبت کے سلب هونے سے حکایت کرتی هے۔
لیکن محققین نے ثابت کیا هے که یه غلط هے ۔ قضیه موجبه اور سالبه میں ایک قسم کی نسبت سے زیاده نهیں هے جو وهی ثبوتی اورایجابی نسبت هے، قضیه موجبه اس نسبت کے خارج میں مطابقت رکھنے اور مصداق رکھنے سے حکایت کرتی هے اور قضیه سالبه اس نسبت کےخارج میں مطابقت نه رکھنے اور مصداق نه رکھنے سے حکایت کرتی هے72 اور یه دونوں ایک دوسرے سے تفاوت رکھتی هیں ۔اسی بنا پر کهتے که قضیه سالبه کا معنی “سلب الربط” هے نه “السلب الربط” اور نه “ربط السلب”جو قضیه معدوله کا مفاد یا مفهوم هے۔
عدم کے مفهوم کی ساکھ اور حیثیت وهی هے جو قضیه سالبه میں هے اور عدم اس لحاظ سے وجود کا نقیض هے اور یهی عدم هے جن کا اصطلاحاً “عدم بدیل” نام رکھا جاتا هے۔جب بھی ایک قضیه دوسرے قضیه کے مفهوم کو رفع کرے یعنی نفی اور سلب کے ذریعے براه راست اس قضیے کے مفاد کو ختم کرے تو یه دو قضیے ایک دوسرے کی نقیض هوجائیں گی۔ صرف وه قضیه دو
سرے قضیه کا نقیض بن سکتی هے جو اس سے اس کےمفاد کو بغیر کسی قید کے رفع اور سلب کرے یعنی تمام قیود سلب کے تحت آجائیں اور مسلوب کسی قسم کی قید سے مقید نه هو۔ یه هے اس جملے کا معنی جو کهتے هیں: “نقیض کل شیء رفعه”
عدم اس لحاظ سے جو اس کی اصلی حیثیت هے کسی قسم کی خارجیت اور واقعیت نهیں رکھتا اور اس کے لئے کسی مصداق کا بھی تعیین نهیں کیا جا سکتا هے یهاں تک که زمان کی قید سے بھی ماوراء هے یعنی زمان عدم کے لئے ظرف واقع نهیں هو سکتا بلکه زمان اس چیز کا ظرف واقع هوتا هے جس سے نسبت کو سلب کیا جاتا هے مثلا اگر هم کهیں که” زید آج کھڑا نهیں هےاس مثال میں لفظ “آج” جو زمان پر دلالت کرتا هے زید کے کھڑے هونے(زید کھڑا) کا ظرف هے نسبت سالبه کا ظرف نهیں هے۔اس لحاظ سے عدم وهی نفی اور سلب هے۔ یه جو کهتے هیں که“ اجتماع نقیضیں جائز نهیں هے”مراد ایجاب اور سلب یا نفی اور اثبات


دیدگاهتان را بنویسید