دانلود پایان نامه

جو خود حرکت عمومی میں پیدا هوئے هیں۔

امیل بوٹرو 115بھی ان میں سے ایک هے ۔ اور اس نے یه دعوا کیا که کائنات کے موجودات ایک جیسے نهیں هیں اور انهیں ایک دوسرے سے متصل سلسله فرض نهیں کرسکتے۔ جمادت ایک حکم رکھتے هیں اور نباتات دوسرا حکم اور حیوانات ان دونوں میں سے هر ایک سے متفاوت هیں ، انسان بھی اپنے لیے کچھ خصوصیات رکھتا هے۔ اگرچه اس نے بھی اپنی فکر کی بنیاد قانون علیت کی نفی یا کم از کم ضرورت علّی و معلولی کی نفی پر رکھی هے اور کوئی قابل ذکر نظریه پیش نهیں کیا هے۔ برگسون بھی میکانیزم کو کائنات کےنوعیتی حالات، خاص کر زندگی میں در پیش مسائل کے حل پر قادر نهیں سمجھتا هے۔
تیسری بحث یه هے که فلسفه میکانیزم اسلامی فلسفے کے ساتھ کس نقطے پر اتحاد رکھتا هے؟ آیا جیساکه عموماً یورپی اور فروغی کی مانند یورپی افکار سے متأثر لوگ یه گمان کرتے هیں که میکانیزم علت غائیه اور قوه و فعل کی نفی کا لازمه هے یهاں تک که خالق کی نفی کا لازمه هے اور میکانیزم کاانکارقانون علیت، کا قانون یا کم از کم اصل ضرورت علّی و معلولی کے انکار کا لازمه هے؟ همارے خیال میں اس طرح کا طرز تفکر بنیاد سے هی غلط هے۔ میکانیزم کے نظریه کا سروکار صورت نوعیه سےهے اور یهی“اشیاء کی ذات اور ماهیت “کے ساتھ ارتباط پیدا کرتا هے۔
اب همیں یه دیکھنا هے که صور نوعیه کے بارے میں قدماء کے نظریه کی بنیاد کیا تھی۔ آیا اشیاء کے بارے میں حاصل هونے والی معلومات کے بعد بھی صور نوعیه کے اعتراف کی ضرورت هے یا نهیں؟ میکانیزم ، مادے کے اجزاء کےباهمی روابط کو ایک مشین کے اجزاء کے روابط کی مانند جاننے کے سوا کچھ نهیں هے۔ ایک جماد اسی طرح ایک نبات اور ایک حیوان یهاں تک که ایک انسان میکانیزم کی نگاه سے ایک مشین هے اور بس۔ اب ہمیں یه دیکھنا هے که جو لوگ مدعی تھے اور هیں که جماد اور نبات کا اختلاف (بلکه جماد کے دو انواع میں اختلاف یا نبات کے دو انواع میں اختلاف) یا نبات، حیوان اور انسان میں پایا جانے والا اختلاف دو مشینوں کے درمیان پائے جانے والے اختلاف سے زیاده هے ، کس بنیاد پر حکم کرتے تھے؟صور نوعیه کے بارے میں قدماء کے افکار کا آغاز یهاں سے هوتا هے ان کا کهنا تھا که کائنات کے مادے کو تشکیل دینے والے تمام اجرام اور اجسام (ماده اولی یا ثانوی اس اختلاف کی جهت سے جو اس کے بارے میں هے) جسمیت ، جرمیت ، لمبائی، گهرائی اور چوڑائی رکھنے میں ایک جیسے هیں اور ان کے درمیان کوئی فرق نهیں هے۔
کیونکه حرکت کی پهلی اختلافات جیساکه تیز اور آهسته اور جهت میں اختلاف همیشه ایک متغیر اور متبدل امر هے اور ان کی حرکت عمومی کی یکسانیت کے ساتھ تفسیر اور توجیه میں ناگزیر “اتفاق”کی طرف هاتھ بڑھانا پڑے گا۔ وهی اتفاق جو علت اور معلول کے قانون اور بالآخره علم کی نفی کرتا هے۔

دوسرے لفظوں میں یه جهت ان تمام کی وجه مشترک هے لیکن اشیاءدوسری جهت سے یعنی ماده اور پیکر میں وحدت اور اشتراک رکھنے کے باوجود آثار اور خصوصیات کے لحاظ سے مختلف اور متبائن هیں۔ قهراً یه سوال پیدا هوتا هے که اگر ایک طبیعت حاکم هوتی تو کائنات میں مکمل طور پر یکسانیت اور مماثلت برقرار هوتی اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نه هوتا ، تغایر اور تخالف نه هوتا یهاں تک که حرکت اور تغییر کے لئے بھی کوئی جگه باقی نه رهتی۔ اسی طرح مختلف عناصر اور مرکبات وجود میں نه آتے۔
سوال یه هے که آثار، شکلوں ، رنگوں ، خصوصیتوں اور فعالیتوں میں یه اختلاف کهاں سے پیدا هوتا هے؟ قهراً اس کا کوئی سرچشمه هوگا۔ یعنی ایک طاقت یا چند طاقتیں مادے (جسم اور جرم جو سب میں مساوی اور مشترک طور پر موجود هے) پر حکومت کرتی هیں۔ مادے پر حکومت کرنے والی طاقت تمام مواد میں یکساں عمل نهیں کرتی کیونکه اگر طاقت تمام مواد میں یکساں عمل کرتی تو (جس طرح ماده یکساں هے) اختلاف اور تنوع وجود میں نه آتا۔ پس مختلف طاقتیں مادے پر حکومت کرتی هیں۔ وه طاقتیں کیا هیں؟ جوهر هیں یا عرض؟ دوسرے لفظوں میں وه طاقتیں کس طرح کی حالت رکھتی هیں؟ یهاں پر ابتداء میں صرف دو طرح کے فرض قابل تصور هیں:
1 – وه چیز جو بنام “قوه” وجود رکھتی هے اور آثار کا سرچشمه هے ایک ایسا موجود هے جو سوفیصد ماده اور جسم سے مستقل اور خارج هے لیکن جسم کے همراه هے۔دوسرے لفظوں میں اس طرح فرض کریں که ایک ایسا عنصر هے جو مادے کے عناصر کے ساتھ اختلاف رکھتا هے لیکن مادے کے همراه اور اس کے بغل میں وجود رکھتا هے۔ وهی هے جس نے مادے کو یکسانیت اور مشابهت کی حالت سے خارج کیا هے۔
یه نظریه بهت ساری دلائل کے ذریعے رد هوا هے خواه اس عنصر کو مافوق الطبیعی اراده جانیں یا کوئی اور چیز ۔ یه نظریه تمام اشیاء اور طبیعی موجودات میں ڈیکارٹ کی ثنویت کی طرح ایک قسم کی ثنویت هے ۔
2 – جو چیز بنام “قوه” وجود رکھتی هے اور آثار کا سرچشمه هے مادے کے ساتھ متحد هے نه که اس سے خارج اور صرف اس کے همراه هے۔ یه نظریه بھی اپنی جگه دو طرح سے قابل بیان هے:
الف) قوه عرض ہے اور مادے کے ذریعے قائم هے۔ قهراً مادے کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت کی منزلت پر هے۔

اس کے علاوه خارج میں کچھ ایسی چیزیں هیں جو کسی صورت ماده، قوت اور توانائی اور بلآخره حرکت کی جگه نهیں لے سکتی جیسے وحدت ، امکان، وجود ، نسبت، عدد وغیره ۔

ب) قوه جوهر هے اور مادے کے ساتھ متحد هے116 ماده اور قوه کے درمیان نقص اور کمال کی نسبت هے۔ یعنی ماده اپنی ذات میں ایک کمالی وجود پیدا کرتا هے اور اس جوهری کمال کی وجه سے کچھ
مخصوص آثار کا سرچشمه بن جاتا هے۔
ان سب کے باوجود مقاله نمبر 1 میں بیان کئے گئے نکتے سے بھی غافل نهیں رهنا چاهئے که یه اشکالات طبیعی علوم کی پابند نهیں هیں بلکه مذکوره نظریه کے بارے میں استعمال هونے والی فلسفی تعبیر کی طرف متوجه هیں۔

مادی اور جوهری کمالات مختلف صورتوں میں پیدا هوتے هیں اسی وجه سے مختلف شرائط اور امکانات کے حساب سے ماده مختلف جوهری صورتیں قبول کرتا هے۔
قوه کے عرض هونے کا فرض یقیناً باطل هے کیونکه اس فرض کے ساتھ وه چیز جسے هم قوه نام دیتے هیں اور چاهتے هیں که آثار اور خصوصیات کی اس کے ساتھ توجیه کریں آثار اور خواص کے ردیف میں آتا هے جوخود ایک اور قوه کی توجیه کا محتاج هے۔ دوسرے لفظوں میں اگر کوئی کهے که “قوه مادے کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت هے جو خود مادے سے پیدا هوگئی هے “ تو اس کے جواب میں کها جائیگا که ماده اس حکم کے ساتھ جو تمام جگهوں میں یکساں هے ، اگر قوه کا سرچشمه هوتا تو تمام جگهوں پر یکساں عمل کرتا اس کے علاوه هم اس جهت سے قوه کے وجود پر یقین کرنے پر مجبور هیں که ماده صلاحیت نهیں رکھتا هے که مختلف اور متنوع آثار کا سرچشمه شمار هو ، پس کیسے هم یکساں مادے کو مختلف قوتوں کے لئے سرچشمه قرار دے سکتے هیں؟ لیکن یه که کوئی اور قوه ان مفروضه قوتوں کا سرچشمه هو تو خود اس قوه کی طرف نقل کلام کریں گے که وه کیا چیز هے؟ آیا وه بھی ایک خصوصیت هے جو مادے کو دی گئی هے یا کوئی اور چیز ؟ فرض کریں هم اسے خصوصیت فرض کریں تو پھر وهی سوال پیدا هوتا هے ۔
یهاں سے معلوم هوتا هے که قوه کو ماده کی ذات کے مرتبے میں اوراس سےمتحد جاننا ضروری هے یعنی قوه اور ماده مجموعاً ایک جوهری اکائی کو وجود میں لاتے هیں ۔ قوه اور مادے کے درمیان نسبت، متعین اور لامتعین، فصل اور جنس کی طرح هے۔ یعنی ماده کبھی اس قوه کی شکل میں ظاهر هوتا هے اور کبھی اس قوه کی شکل میں اور هر قوه، ماده اور قوه سے مرکب شئ کی ماهیت کو تبدیل کرتا هے اور اسی جهت سے ان قوتوں کا “صور نوعیه”یا “صور منوعه” نام رکھتے هیں اور کهتے هیں که ان قوتوں کی تعداد میں مختلف ماهیات وجود رکھتی هیں۔
پس فلاسفرز اور حکماء کا جماتات، نباتات اور حیوانات کو مختلف انواع میں تقسیم کرنا اور ان کے درمیان ذاتی اور جوهری اختلاف کے قائل هونے کی علت ، ماده کے علاوه قوه کا کشف هونا هے اور یه که قوه کو نه مادے سے جدا اور مستقل عنصر کی شکل میں قبول کیا جا سکتا هے اور نه مادے کے لئے عرض اور خصوصیت کی شکل میں بلکه ضروری هے صرف اس کو اس چیز کی شکل میں جو مادے کی ذات کے مرتبے میں راه پیدا کرتی هے ، دوسرے لفظوں میں ایک ایسی چیز کی شکل میں که مادے کی ذات جس کے ذریعے متحول اور متکامل هو جاتی هے ، قبول کریں۔اور چونکه قوتیں مختلف اور گوناگون هیں ماده هر قوه سے مل کر ایک خاص قسم کو تشکیل
جیساکه فیزکس کے مطابق جهاں، حرکت کے مساوی هے ایک ایسا حکم هے جو اپنے موضوع کی حدود میں قابل اجراء هے اور اپنے موضوع سے باهر کسی بھی چیز کے بارے میں هاں اورنا کی صورتم میں نظر نهیں دے سکتا۔

دیتا هے ۔اسی طرح جسمانی ماده جن عناصر کی شکل اختیار کرتا هے اپنے جوهر کو تبدیل کرتا هے اور عناصر جب مرکب کی شکل اختیار کرتے هیں تو کوئی اور چیز بن جاتے هیں۔ ایسا نهیں هے که ماده کسی اور چیز کے ساتھ جمع هوا هو اسی طرح یه بھی صحیح نهیں هے که ماده نے اپنی ماهیت اور حقیقت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ صرف ایک اضافی خاصیت حاصل کی هو۔
یهاں پر بے جا نهیں هے که امیل بوترو جو که انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کےسائنسدانوں میں سے هے، کا نظریه جس کی ایک طرح سے قدماء کے نظریے کی طرف بازگشت هےاگرچه کچھ جهات سے ناقص هے، بیان کریں۔مرحوم فروغی کتاب سیرحکمت در اروپا کی تیسری جلد117 میں اس کی ایک کتاب “امکان قوانین طبیعت” کا نام لیتا هے ، جس میں وه مدعی هے که “علیت کا قانون یقینی نهیں بلکه ایک احتمالی قانون هے”۔ هم فی الحال اس کی گفتگو کے اس حصے سے جو همارے لئے مورد قبول نهیں هے، بحث نهیں کریں گے، جو مطلب همارا مورد توجه هے وه یه هے که وه کهتاهے:
“کائنات کے تمام موجودات یکساں حالت میں نهیں هیں اور ان کے امور ایک روش پر جاری نهیں هوتے هیں۔ لهذا انهیں ایک دوسرے سے متصل سلسله فرض نهیں کیا جاسکتا۔ جمادات کوئی حکم رکھتے هیں ، نباتات کوئی اور حکم ، حیوانات ان دونوں سے متفاوت هیں اور انسان بھی اپنے لئے کچھ خاص خصوصیات رکھتا هے ۔ چنانچه قدیم الایام سے اس نکتے تک رسائی حاصل هو گئی تھی که نبات میں جماد سے ایک اضافی حقیقت هے جسے “نفس نباتی”کها جاتا هے جو حیات کا سبب بنتی هے ۔ جتناچاهیں مادی احکام اور خصوصیات یعنی طبیعیاتی اور کیمیائی قوانین اس پر جاری کریں سرانجام ایک ایسی چیز باقی ره جاتی هے جس پر جمادی احکام کا تسلط نهیں هے، اسی طرح حیوان میں ایک ایسی چیز هے(قدماء کے بقول نفس حیوانی) جو مجرد حیات پر اضافی هے اور حیاتی قوانین اس پر تسلط نهیں رکھتے۔اسی طرح بدون شک انسان کے شعور اور حواس میں بھی کوئی ایسی شئ هے جس کی بنا پر حیوانی خصوصیات اس پر تسلط نهیں رکھتی۔ وجود کے ان مراحل میں سے هر ایک کے قوانین دوسرے مراحل کے ساتھ فرق کرتے هیں؛ چنانچه روح شناسی کے قوانین کو طبیعیاتی اور کیمیائی قواعد سے اخذ نهیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح نفسیات کے اصول بھی روح شناسی کے اصول سے مباینت رکھتے هیں۔اس بات کی تائید میں کها جا سکتا هے که موجودات کا اجزاء سے مرکب هونے یعنی هر فرد ایک کل هے جو کچھ اجزاء کے مجموعے س
ے بنایا گیا هے، اسکے باوجود ان کے مجموعے اور
لیکن جب بھی اسی قضیے کو فلسفه میں وارد کرنا چاهیں کیونکه اس کا موضوع مطلق موجود هے تو ضروری هے کهیں که هر مادی موجود حرکت رکھتا هے ۔

کل کی خصوصیات اجزاء کی خصوصیات کےمساوی نهیں هیں بلکه اس سے زیاده خصوصیات کی حامل هیں۔ مثلا ًایک درخت یا پودا اس کے باوجود که جمادی اجزاء سے مرکب هے کچھ ایسی خصوصیات بھی رکھتے هیں جو جمادی اجزاء کی خصوصیات پر اضافه هوتی هیں جن کا تعلق حقیقت میں نفس نباتی کے آثار سے هے۔ حیوان اور انسان کی حالت بھی اسی طرح هے۔کچھ موجودات کی خصوصیات معلوم هونے سے کچھ دوسرے موجودات کی خصوصیات کو قیاس کے ذریعے معلوم نهیں کیا جا سکتا لهذا هم مجبور هیں هر مورد میں ایک خاص تجربه اور مشاهده سے استفاده کریں…۔”پھر کهتا هے:
“جب هم موجودات کی تحولی اور ارتقائی سلسلے کو مدنظر رکھتے هیں تو


دیدگاهتان را بنویسید