دانلود پایان نامه

رجحان کے عوامل
40.
فلسفه تاریخ(۱-۲)
41.
امام مهدی علیه‌السلام کا قیام اور انقلاب
42.
عدل الهی
43.
امام حسین(ع) کی تحریک کی حقیقت
44.
معنوی گفتار
45.
استاد مطهری اورروشنفکریں
46.
ربا کا مساله
47.
روحانیت کے انتظامی امور میں سب سے بڑی رکاوٹ
48.
شناخت کا مساله
49.
اسلام میں فلسفه کی تاریخ
50.
معاد
51.
قرآن میں انسان
52.
فلسفی مقالات
53.
سماج اور تاریخ
54.
انسان اور ایمان
55.
زندگی جاوید یا اخروی زندگی
56.
توحیدی آیڈیالوجی
57.
اسلام کے اقتصادی نظام پر ایک نظر
58.
وحی اور نبوت
59.
اسلام میں عورتوں کے حقوق
60.
نبوت
61.
مارکسیسم پر نقد
62.
ولایت کے اقسام
63.
بیسویں صدی کی اسلامی تحریکیں
64.
هدف زندگی
65.
آئینه جام(دیوان حافظ شهید کی یاد داشتوں کے ساتھ)
66.
مساله حجاب
کتاب حاضر
یه کتاب فلسفیانه مباحث کی ایک مکمل سیریز هے، علامه محمد حسین طباطبائی اس کے مؤلف هیں جبکه شهید استاد مرتضی مطهری نے علامه کے متن پر مفید حاشیے لکھ کر کتاب کی افادیت میں دوچنداں اضافه کیا هے۔ خود شهید مطهری فرماتے هیں که یه کتاب اسلامی فلاسفرز کی هزار ساله کوششوں اور مغربی فلاسفرز کے وسیع و عریض تحقیقات کا ماحصل هے۔
1329ه۔ش(1950ء) میں علامه طباطبائی جدید مسائل پرخصوصی کلاسیں شروع کرتے هیں جن میں ماده پرستوں خصوصا جدلیاتی ماده پرستوں کے اعتراضات کا جواب دیا کرتےتھے۔علامه طباطبائی کی یه کاوش بعد میں شهید مطهری کی فکری محوریت میں 14 مقالوں پر مشتمل “اصول فلسفه و روش رئالیسم” نامی کتاب کی شکل میں منظر عام پر آگئی۔
ان مقالوں کے مباحث کی مختصر وضاحت منمندرجه ذیل هے:
مقاله نمبر 1 : فلسفه کی تعریف که فلسفه کیا هے اور اس کا مفهوم کیا هے۔
مقاله نمبر 2: اس مقاله میں “فلسفه اور سفسطه” کے درمیان فرق کو واضح کرتے هوئے مثالیت کے عمده دلائل کا تننقیدی جائزه لیا گیا هے اور ماده پرستوں کے اعتراضات کا جواب دیا هے۔
مقاله نمبر 3 : علم اور ادراک کو مورد بحث قرار دیتے هوئے علم کو حصولی اور حضوری میں تقسیم کرتے هیں اور دلیل و برهان کے ساتھ ثابت کرتے هیں که علم اور ادراک بطور اطلاق مادی نهیں هو سکتے ۔
مقاله نمبر 4 : اس مقاله میں معلومات کی ارزش کو بیان کیا گیا هے جو فلسفے کے درجه اول کے مباحث میں سے هے۔ کیونکه همارا سروکار همیشه علم کے ساتھ هے اس بنا پر ضروری هے که ایک عمیق فلسفیانه تحلیل کے ذریعے “علم، معلوم اور معلومات کی ارزش “ کو واضح کیا جائے ۔ اس مقاله میں حقیقت پسندانه فلسفی سوچ کو منطقی دلائل کے ساتھ ثابت کیا هے۔
مقاله نمبر5: اس مقالے میں ادراکات میں کثرت کی پیدایش کو زیر بحث لایا هے جس کا شمار فلسفه اور نفسیات میں “حس اور عقل” مربوط مفید اور قیمتی ابحاث سے هے۔
مقاله نمبر6 : اس مقالے میں فلسفے کی ایک نئی بحث “ادراکات اعتباری” کو پیش کرکے حقیقی اور اعتباری ادراک پر روشنی ڈالی گئی هے۔
مقاله نمبر 7میں وجود کو مورد بحث قرار دیا هے۔ وجود کا مسئله فلسفے کے دوسرے مباحث کے ساتھ رکھنے والے عمیق رابطے کی وجه سے فلسفه کے اساسی اور بنیادی مسائل میں شمار هوتا هے۔ لیکن جیسا که قارئین کرام اس مقالے میں ملاحظه فرمائیں گے که وجود کے باره مسئلوں میں سے صرف دو مسئلے ایسے هیں جو قدیم یونانی فلسفے میں پائے جاتے تھے باقی عمده مسائل اسلامی دور میں وجود میں آئے هیں جبکه دو مسئلے “موجود، معدوم نهیں هو سکتا” اور یه که”عدم، نسبی اور اضافی” هے” پهلی بار اسی مقاله میں مستقل عنوان کے ساتھ ایک مخصوص انداز میں مورد بحث قرار پائے هیں۔
مقاله نمبر 8 جو ضرورت اور امکان پر مشتمل هے ، نظام هستی پر حاکم وجوب، حتمیت اور قطعیت کو مورد بحث قرار دتیا هے کیونکه نظام هستی کی ضرورت اور حقیقت قدیم الایام سے آج تک مشرقی اور مغربی فلسفه کے عمده ترین مسائل میں شمار هوتے هیں۔ اس مقاله کے آخر میں انسان کے “مجبور اور مختار” هونے نیز “تکلیف کی استعدا” اور “نظام هستی کے مقابلے میں انسان کی ذمه داری” پر سیر حاصل بحث کی هے ۔
مقاله نمبر 9 میں فلسفه کے قدیمی ترین مسئلے”قانون علیت اور اس کے فروعات “ پر بحث کی هے ۔یه مسئله قدیمی اور با سابقه هونے کے باوجود اهمیت اور عظمت کے حوالے سے کسی سے کم نهیں هے اسی بنا پر اس مسئلے کے بارے میں زیاده تحقیقات اور کاوشوں کے نتیجے میں عالم موجودات کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کے حوالے سے بهت سارے حقائق واضح اور روشن هو گئے هیں۔ اس مقاله کے آخر میں علت کی مختلف اقسام کو بیان کرتے هوئے علت غایی کو ثابت کیا هے اور “چانس، قسمت اور اتقاق وغیره کے بطلان پر روشنی ڈالی هے ۔
مقاله نمبر10: اس مقاله میں “قوه و فعل” امکان و فعلیت،حرکت و تکامل، اور زمان و حرکت جو که فلسفه کے دقیق مباحث میں سے هیں ، کو ایک خاص زاویے سے بررسی کیا هے ۔
مقاله نمبر11:اس مقاله میں حدوث اور قدم- تقدم ، تأخر اور معیت پر بحث کرکے “کائنات کا حادث زمانی هونے” کو ثابت کرتے هیں۔
مقاله نمبر12 : اس مقاله میں “وحدت اور کثرت” اور ان کا فلسفے کے ساتھ رابطه کو بیان کرتے هوئے وحدت و کثرت کی تقسیم بندی اور ان کے احکامات کو بیان کیا هے اور آخر میں “تقابل” کے مسئلے کو چهارم قسموں میں تقسم کرکے ان کی بررسی کرتے هیں۔
مقاله نمبر13 : اس مقاله میں ماهیت ، جوهر اور عرض کے بارے میں ج
دید علمی تجربات اور نظریات کو بیان کرتے هیں۔
مقاله نمبر14: کتاب کے آخری مقالے میں ذات اقدس ، خدا کے کمالی صفات اور کائنات کا خدا سے صادر هونے کی کیفیت پر بحث کرتے هیں۔ اسی مقالے میں “قضا و قدر”اور کائنات کے انجام کی طرف بھی مختصر اشاره کرتے هیں ۔

مقاله نمبر 10

قوه و فعل ، امکان و فعلیت

قوه و فعل اور امکان و فعلیت(1)
اگرکوئی قمیص بنانا چاهے تو اس کام کے لئے کپڑے کی ضرورت هے ۔

(1)تغیر و تبدل کائنات کے واضح ترین اور مسلمه حقائق میں سےایک هے۔ یه جهان ثابت اور ساکن نهیں هے اس کے موجودات ایک حالت سے دوسری حالت اور ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں بدلتے رهتے هیں ۔ ایک ماهر باغبان جانتا هے جو بیچ زمین میں بویا جاتاهے اس میں بتدریج کیسی تبدیلیاں رونما هوتی هیں اور اس کام کے لئے کن کن شرائظ کی رعایت کرنا ضروری ہوتاهے۔ انسانی علوم کی بہت ساری تحقیقات انهی تغیرات اور تبدلات کے بارے میں هیں اور انهی تغیرات اور تبدلات کے قوانین کو کشف کرتی هیں۔ فلسفه بھی ایک خاص زاویه نظر اورمخصوص انداز کے ذریعے طبیعت میں پیش آنے والے تغیرات اور تبدلات کی تحقیق کرتا هے ۔ لیکن جو چیز فلسفه کا مورد نظر هے اس چیز سے جو سائنس کے مورد نظر هے مختلف هے۔جس چیز کو فلسفه مد نظر رکھتا هے فلسفی مطالعات کی خاصیت کے مطابق کلی اور عمومی پهلو رکھتی هے۔مراد یه نهیں هے که جو چیز دوسرے علوم کشف کرتے هیں فلسفه انهیں جمع کرکے ایک کلی ضابطه کی شکل دیتا هے بلکه مراد یه هے که فلسفه کی دید اور زاویه اس کے بارے میں سائنس سے مختلف هے۔ اور همیشه جن زاوایا سے فلسفه ان چیزوں کا مطالعه کرتا هے وه کسی خاص چیز سے مختص نهیں هے۔

البته (1) اگر 50 سینٹی میٹر کپڑے میں سے 10 سینٹی میٹر کاٹ کر درزی کے پاس لے جائے تو کهے گا که 10 سینٹی میٹر کپڑے سے تو قمیص نهیں بن سکتی۔ بلکه متوسط قد کے افراد کی قمیص کے لئے کم از کم تین میٹر کپڑے کی ضرورت هوتی هے ۔ دس سینٹی میٹر کپڑے سے صرف ایک نومولود بچے کے لئے سینه بند بن سکتا هے۔

طبیعی تحولات اور تغیرات کے بارے میں فلسفه کے عمده احکامات علمی حکموں کے متغیر پهلوں پر موقوف نهیں هیں اور ان تغیرات کے بارے میں اکثر فلسفی حکموں کے لئے مختلف علوم میں ثابت شده حتمی اور انسان کے حس اور شهود پر مبنی ابتدائی قضایا کافی هیں۔
فلسفه اس جهت سےطبیعت کی تغیرات اور تحولات کی بررسی کرتا هے که طبیعت “قوه و فعل” کی نمائشگاه اورمظہرهے۔ بعد میں دیکھیں گے که قوه اور فعل کے مفهوم میں سے هر ایک صادق اور حقیقیت رکھنے کے باوجود ایک حسی مفهوم نهیں هے اور “پدیده” یا “ظاهره” یا “رجحان” جیسے کلمات ان پر صدق نهیں آتی هیں۔ جیسا که یه کلمات “وجود, عدم، وحدت، کثرت، قدم، تقدم، تاخر، معیت، علیّت، معلولیت، ضرورت، امکان اور امتناع” پر صدق نهیں آتی هیں۔
بارها بیان هوا که همارا ذهن جهان هستی اور عالم خارج سے کچھ معانی اور مفاهیم رکھتا هے جو انسانی تصورات اور افکار کے اصول شمار هوتے هیں۔ انسان کسی صورت میں ان سے علیحده هو کر صرف حسی افکار جو که ظواهرات سے ماخوذ هے ، پر اکتفاء کرکے تفکر کرنے پر قادر نهیں هے۔فلسفه کا واسطه غالبا ان معانی اور مفاهیم سے هے اور “قوه اور فعل” کے مفاهیم بھی انهی میں سے هیں۔
(1) مطلب کو صحیح روشن کرنے اور “قوه اور فعل” کے قانون کو بهتر سمجھانے کے لئے انسانی مصنوعات کی مثال دی گئی هے۔ انسان اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنے علمی اور فنی امکانات کے محدودے میں اس عالم کے بعض مادوں کو ایسی شکل و صورت دیتے هیں جو اس کی ابتدائی یا ثانوی ضروریات میں سے بعض کو برطرف کرے۔ اس قسم کے تغیرات کو صنعت کا نام دیتے هیں۔بدیهی هے که جس قدر انسانی علوم میں ترقی آتی جاتی هے اور طبیعت کے قوانین انسان کے لئے زیاده کشف هوجائے انسان کا طبیعت پر تسلط کی راه هموارتر اور اس کی صنعتی فعالیت وسیع تر هو جائیگی ۔ چنانچہ کل اور آج کی انسانی زندگی کے موازنے سے یه مطلب واضح هے۔
درزی کے کهنے کا مطلب یه هے که قمیص بنانے کے لئے ضروری هے که پهلے ایک خاص مقدار میں کپڑا موجود هو جس سےایک قمیص بنایا جاسکے۔ اگر فرض کریں مندرجه بالا مثال میں کپڑے کی جگه ایک میز کو یا پائپ کو درزی کے پاس لے جائے اور اس سے کهے که اس سے قمیص بنائیں تو خنده دار هوگا۔

صنعت میں ایک بدیهی یا شبه بدیهی مطلب هے وه یه که کسی مصنوع کے وجود میں آنے کے لئے پہلی شرط ماده کا هونا هے۔ یعنی کوئی چیز هو جسے انسان اپنی مرضی کی شکل دے سکے ۔انسان مادے کے بغیر کسی چیز کو بنانے کی قدرت نهیں رکھتا۔ انسان کے تمام ایجادات ابتدائی ساده نمونوں مانند بیلچه، جاڑو اور چھری سے لے کر عالی اور فنی نمو نے مانند ریڈیو اورجهاز وغیره جهاں میں موجود کچھ مادے هیں جسے انسان نے اس شکل اور صورت میں لایا هے۔
فلاسفرز برهان اقامه کرتے هیں که طبیعت کے جریان اور زمان و مکان کے نظام میں بغیر ماده کے کسی چیز کا وجود میں آنا محال هے۔ فلاسفرز کے عقیدے میں ضروری هے که هر حادث اور وجود میں آنے والی شئ سے پهلے کوئی ماده هو (جس سے یه وجود میں آئی هے)۔ پس انسان کابغیر ماده کے کسی چیز کے بنانے پر قدرت نه رکھنا اس کی عجز اور ناتوانی سے مربوط نهیں هے بلکه یه کام ذاتا محال اور ممتنع هے۔ اس نظریے کے مطابق کسی مصنوع کی پیدائش کےپہلی شرط ماده کا هونا هے۔ اب دیکھنا یه هے که آیا
صرف ماده کا هونا (کوئی بھی ماده اور جس مقدار میں) هر مصنوع اور مقصد کے لئے کافی هے؟ یا یه بھی اپنی جگه کوئی حساب و کتاب رکھتاهے؟
واضح هے که یه کسی حساب و کتاب کے بغیر نهیں هے۔ کسی بھی مادے کا کسی بھی مقدار میں هونا هر صناعی صورت کے لئے کافی نهیں هے۔ایک لوهے کا پائپ یا ایک لکڑی کا تخته قمیص بنانے کا کام نهیں آتا اسی طرح دو میٹر کپڑے سے ایک کمره کا دروازه نهیں بنایا جاسکتا ۔ بلکه اس جهاں کی ایک یا چند نوع مادے کسی خاص مصنوعات کے لئے کام آتے هیں۔
قمیص بنانے کے لئے کپاس، اون یا گھاس بھوس کی جڑ یا صنعتی مادے کی ضرورت هوتی هے ۔ کمرے کے دروازے کے لئے لکڑی یا لوها یا شیشه مناسب هے بلکه کپڑا بھی قمیص بنانے کے لئے ایک معین مقدار سے کم نه هو ، ایک دس بائی دس سنٹی میٹر کا کپڑا قمیص کے لئے کافی نهیں هے۔
یهی حالت بڑھئی کی بھی هے جس کا کام لکڑی اور تخته وغیره کے ساتھ هےاور اسی طرح لوهار جس کا واسطه لوهے کے

دسته بندی : پایان نامه ها

دیدگاهتان را بنویسید