دانلود پایان نامه

پهلے والے لباس سے کامل تر هے پهن لیتا هے ۔

هیں جو ان کی چاهت کے مطابق هو(1)۔مثلا سیب کےبیچ میں،سیب بننے کی جو قوه اور امکان موجود هے بیچ کی شکل میں محفوظ هے ۔
3 – هر فعلیت دوسری فعلیت کو اپنے سے دور کر دیتی هے مثلا سیب بننے کے بعد بیچ کی شکل ختم هوجاتی هے۔ اس نتیجے سے دو اور نتیجے بھی لے سکتے هیں :

ماده کے لئے ممکن نهیں هے که ایک لباس کے هوتے هوئے دوسرا لباس پهن لے۔لیکن دوسرا نظریه جس کی صدر المتالهین21 نے بھی تائید کی هے یه هے که پهلی صورت کلی طور پر معدوم اور ختم نهیں هوتی بلکه صرف اپنے مقام سے معزول هوتی هے اورماده سے ملکر قوه کی شکل اختیار کرتی هے یعنی اصطلاحاًجو چیز طبیعت میں رونما هوتی هے“ خلع و لبس” نهیں هے بلکه “لبس فوق لبس” (ایک لباس کے اوپر دوسرا پهننا)هے کیونکه بنیادی طور پر ممکن نهیں هے که ماده کلی طور پر اپنی صورت کو اتار کر دوسری صورت پهن لے اگرچه زمان کا فاصله بھی نه هو۔مقاله کے متن میں اس مطلب کے بارے میں بعد میں بحث هوگی۔
(1) یه مطلب گذشته گفتگو سے بخوبی سمجھ سکتے هیں ۔پس اس بات کے ثابت هونے کے بعد که کسی بھی چیز کے وجود سے پهلے اس کا امکان موجود هوتا هے اور ثابت هوا که “قوه “ اور “امکان” ان چیزوں میں سے نهیں هے جو مستقل وجود رکھتے هوں بلکه همیشه کسی دوسری چیز کے لئے ایک صفت کی حیثیت رکھتےهیں۔ پس ضروری هے که دوسری شئ بھی مورد نظر شئ سے پهلے وجود رکھتی هو تاکه اس شئ کے امکان کو حمل کرسکے۔ پس هر چیز مقام و مرتبه اور وجود کے لحاظ سے قوه اور استعداد اسی طرح حامل قوه و استعداد جسے اصطلاح میں ماده کهتے هیں کے بعد هوتی هے؛ جیسے پهلے بیان هوا فلاسفرز کا یه معروف جمله”کل شئ مسبوق بقوة و مادة تحملها” اسی مطلب کو بیان کرتا هے۔
اول: هر خارجی چیز میں ایک فعلیت کے علاوه دیگر فعلیتیں مادے کا جز هے مثلا کرسی کی فعلیت میں صرف کرسی کی صورت اس کی فعلیت هے دیگر فعلیتیں مانند لکڑی ، تخته اور کیل کی فعلیت کرسی کے مادے کا جزو هے نه که یه فعلیتیں کرسی کی فعلیت کے مقابلے میں هیں ۔

جو چیز توجه کا طالب هے وه یه هے که کچھ تعبیریں مانند “حامل”اور “محافظ” همیں گمراه نه کرے اور هم یه گمان نہ کر بیٹھیں که واقعاً خارج میں دو جداگانه چیزیں موجود هیں جو ایک دوسرے میں ضم هوگئی هیں اور ایک نے دوسرے کو حمل کیا هوا هے اور اس کی حفاظت کر رهی هے اور ان میں سے ایک عرض هے دوسرا معروض بلکه جیسا که پهلے بیان هوا ان کے مابین دوگانگی، عقلی اور تحلیلی هے نه عینی اور خارجی جیسا که متن میں آیا هے قوه یا امکان استعدادی حال اور آئنده کے درمیان ایک قسم کی نسبت هے اور هم جانتے هیں که نسبت، طرفینِ نسبت سے جداگانه وجود نهیں رکھتی۔ یهاں سے معلوم هوتا هے که وه بحث جوعام طور پر سابقه ماده کی اثبات کے لئے کی جاتی هے اس بات پر بنا رکھتے هوئے که (امکان، یا جوهر هے یا عرض لیکن جوهر نهیں هوسکتا پس عرض هے) چنانچه کهتے هیں (چونکه امکان استعدادی عرض هے آیا مقوله کیف سے هے یا مقوله اضافه یا کسی اور مقوله سے؟)ان کی یه گفتگو قابل نزاع اور اعتراض هے کیونکہ جیسا که هم نے پهلے بیان کیا استعداد یا امکانِ استعدادی ایک خاص ماده کا تعین کرنا هے اور دقیق لفظوں میں استعداد تعیّن کے لحاظ سےوهی ماده هے۔ استعداد سے مراد ایک واقعیت کا معین ماده هے جو ماده کا بھی مصداق هے اور استعداد کا بھی نه یه که ایک واقعیت دوسرے واقعیت پر عارض هو گئی هو ۔ اس بنا پر مفهوم استعداد باقی تمام فلسفی مفاهیم کی طرح یعنی وجود ، عدم، ضرورت ، امکان… کسی بھی مقوله کے ماتحت نهیں آتا اور مقولات سے خارج هے ۔لیکن اگر عرض کو ان چیزوں سے جو خارج میں عارض هوتی هیں اور ان چیزوں سے جو ذهن میں عارض هوتی هیں عام مراد لیں تو اس طرح کے امور پر بھی صدق کرتی هے؛ لیکن اس صورت میں ضروری هے که عرض کی کوئی اور تعریف کریں انشاءالله خداوند متعال کی توفیق شامل حال رهی تو هم عرض اور جوهر کے مقاله میں (مقاله 13) اس موضوع پر گفتگو کریں گے۔

دوم: قوه اور امکان کا حامل شئ کا ماده هے نه اس کی صورت(1) کیونکه پهلے کی صورت بعد کی صورت کے فعلیت میں آنے سے ختم هوجاتی هے اور کوئی معنا نهیں رهتا که کسی چیز کا قابل اور قبول کرنے والا اس کے مقبول اور مطلوب کے آنے سے ختم هوجائے۔
4 – فعلیت میں آنے کے بعد اس کا امکان ختم هوجاتا هے۔ مثلا سیب کا بیچ جس میں سیب کا امکا ن هے سیب کی صورت اختیار کرنے کے بعد اس سیب کے ساتھ مربوط امکان ختم هوجاتا هے ؛ اگرچه دوسری مادی صورتوں کی نسبت امکان باقی رهتا هے۔جیسا که سیب کا بیچ سیب بن سکتا هے اور سیب بھی تجزیه کے ذریعے کوئی دوسری چیز بن سکتا هے اور آخر کار اپنی طبیعی بھاگ دوڑ میں دوباره سیب بن جائے۔ نتیجةً سیب کا بیچ بغیر واسطه کے پهلا سیب اور کم و بیش واسطه کے ذریعے دوسرا سیب یا کوئی اور چیز بن سکتا هے۔یهاں سے دو اور نظریے بھی واضح هو جاتے هیں:

(1) تمام فلاسفرز بالاتفاق اس بات کے قائل هیں که گذشته اور آئنده ایک دوسرےسے منقطع اور نامربوط نهیں هے۔ یهی گذشته هے جو آئنده کی صورت اختیار کرتا هے ۔ لیکن جس چیز کے بارے میں فلاسفرز کے درمیان اختلاف پایا جاتا هے وه یه هے که آیا صورت اس معنا میں جس کا ارسطوئی فلاسفرز معتقد هیں ، واقع اور خارج میں وجود رکھتی هے یا نهیں؟ دوسرا یه که رونما هونے والی تغیرات اور تحولات میں قطعا گذشته بغیر تغییر کے جس طرح ماضی میں تھا اسی طرح آئنده میں باقی نهیں هے ۔ بنا براین آیا ارسطوئی صورت با
قی هے یا ختم هوجاتی هے ؟ یه مطلب ایک اور مطلب کو جنم دیتا هے وه یه هے که فرض کریں صورت کو ارسطوئی معنا میں قبول کریں اور جسم کو ماده اور صورت سے مرکب مان لیں تو آیا وه چیز جو استعداد کا حامل هے جسم کا مادی جز هے یا صوری جز؟
اگر هم کهیں که جسم کے لئے پیش آنے والی جوہری تغییرات اور تبدیلیوں کے ضمن میں پهلی والی صورت ختم هوجاتی هے اور بعد کی صورت پهلے کی جگه لے لیتی هے تو یقینی طورپرکهنا پڑیگا که امکان کا حامل جسم کا مادی جز یعنی مادے کا ثابت جز هے نه صوری اور غیر ثابت۔ کیونکه امکان کا حامل وهی هے جس نے بعد کی صورت کو قبول کیا هے چنانچه متن میں آیا هے(کسی چیز کا قابل اور قبول کرنے والا اپنے مقبول اور مطلوب کے آنے سے ختم هونے کا کوئی معنا نهیں رکھتا)

اول: جسمانی ماده غیر متناهی صورتوں کا امکان رکھتا هے البته هر صورت کو خاص طریقے سے قبول کرتا هے اور واسطه کے هونے یا نه هونےاسی طرح دوری یا نزدیکی کی وجه سے قبول کرنے کی شکل و صورت مختلف هوتی هے۔دوم: ماده، امکان کی وساطت سے دوری اور نزدیکی سے متصف هوتا هے یه خود امکان کے ثابت هونے پر ایک واضح دلیل هے(1)

البته اوپر کا بیان اس بات پر مبنی هے که اولاً:ارسطوئی نظریه جسم ماده اور صورت سےمرکب هے کو اس انداز میں قبول کریں که جسم دو خارجی جز رکھتا هے ایک مادی اور دوسرا صوری ۔
ثانیاً : اس بات کا معتقد هوجائیں که جسم میں پیش آنے والی تحولات کے دوران صوری جز ختم هوجاتا هے اور مادی جز برقرار رهتا هے؛ لیکن اگر ارسطوئی نظریے کی اساس اور بنیاد کو قبول نه کریں یا یه که اس کو بعنوان ترکیب اتحادی22 نه انضمامی23 توجیه کریں یا ان تمام کے قبول کرنے کے بعد اس بات کو قبول نه کریں که جسم میں پیش آنے والی تحولات کے دوران صوری جز کا ختم هونا ضروری هے تو مندرجه بالانظریه (امکان کا حامل شئ کا ماده هے نه صورت)باطل هوجائے گا یا ایک دوسری شکل اختیار کرے گا۔بعد کے مطالب سے اس بات کی مزید وضاحت هو گی۔
(1) کوئی ایسی حالت نهیں هے جس میں جسمانی ماده کے تمام امکانات اس سے سلب هوجائے ۔ جسمانی ماده نه معدوم هوسکتا هے اور نه هی اس سے اس کا امکان سلب هوسکتا هے ۔ اسی بنا پر هم کهتے هیں که جسمانی ماده غیر متناهی صورتوں کے حمل کرنے کا امکان رکھتا هے۔ لیکن مادے کی نسبت تمام حالتوں میں غیر متناهی صورتیں جو امکان کا حامل هیں کسی ایک کے ساتھ بھی یکساں نسبت نهیں رکھتیں ۔بعض صورتوں کی نسبت یه امکان رهتا هے که ماده عنقریب ان صورتوں کو قبول کرے؛ یعنی ان کی نسبت مکمل آمادگی رکھتا هے اور بعض صورتوں کی نسبت یه آمادگی بعض دوسری صورتوں کے قبول کرنے کے بعد پیدا هو جاتی هے۔اگر هم استعدادوں اور امکانات کی نسبت کو بعض فعلیتوں کے ساتھ موازنه کریں تو دیکھیں گے که بعض امکانات فعلیت کےبالکل نزدیک هیں اور بعض دور۔

کیونکه دوری اور نزدیکی خارجی صفات میں سے هیں۔ لهذا ضروری هے که ان کے موصوف بھی انهی کی طرح وجود رکھتے هوں۔
اس بات کا جاننا ضروری هے که جهاں بھی وجودی نسبت اور ارتباط پیدا هوجائے چونکه کسی چیز کو دوسری چیز سے ربط دینا هے اور اس ارتباط کو برقرار کرنے کے لئے دو طرف کی ضرورت هے ۔ اگر ان کا ارتباط خارج میں هو تو دونوں اطراف کا خارج میں هونا ضروری ہے اور اگر ذهن میں هو تو دونوں اطراف کا ذهن میں هونا اور اگر فرضی هو تو فرضاهونا ضروری ہے۔

مثلا اگر هم نظفے میں موجود استعداد کو انسانیت کی فعلیت کے ساتھ موازنه کریں تو دیکھیں گے که یه استعداد فعلیت کے نزدیک هے، لیکن اگر سیب کی نسبت کو انسانیت سے موازنه کریں تو دیکھیں که فعلیت سے دور هے یعنی ممکن هے سیب انسان بن جائے لیکن فعلیتوں کے چند مراحل کو طے کرنے کے بعد انسان کے بدن کا جز بنے اور نطفه میں بدل جائے اور نطفه انسان بن جائے۔پس سیب میں موجود انسان بننے کی استعداد ایک ایسی استعداد هے جو انسانیت کی فعلیت سے بهت فاصله رکھتی هے اور یهی امکانات اور استعدادات کادوری اور نزدیکی کے ساتھ متصف هونا(باالتبع ماده کا اپنے حامل کے ساتھ متصف هونا) اس بات پر گواه هے که یه امکانات حقیقی اور واقعی پهلو رکھتی هیں؛ کیونکه دوری اور نزدیکی حقیقی اور واقعی امور میں سے هیں لهذاناچار ان کے موصوف یعنی امکانات اور استعدادات کو بھی حقیقی اور واقعی امور میں سے هونا چاهئیے۔

اسی بنا پر ضروری هے یه فیصله کریں که “موجود اور معدوم کے درمیان نسبت محال هے”۔(1)
اب اگر هم اس نظریے کو پهلے کے دو نظریوں کے ساتھ رکھیں تو:
1 – هر فعلیت اپنی پیدایش سے پهلے مادے میں امکان کی حیثیت رکھتی هے۔

(1) ) اس بات میں که “موجود اور معدوم کے درمیان نسبت محال هے” کوئی شک اور شبه نهیں هے۔ نسبت، رابطه هے اور رابطه، دو طرف کے بغیر معنا نهیں رکھتا۔البته نسبتوں اور روابط کے ثبوت اور تحقق کے انداز مختلف هیں۔ کبھی نسبت کے دونوں طرف کا وجود حقیقی اور واقعی هوتا هے یعنی ان دونوں میں سے هر ایک وجودی کمال سے حکایت کرتا هے اور جب هم ان دونوں کو ایک دوسرے سے نسبت دیتے هیں تو درحقیقت حکم لگاتے هیں که وجود کے دو مراتب کے درمیان ایک قسم کا اتحادی یا غیر اتحادی ارتباط موجود هے۔ مثلا جب هم کهتے هیں که زید دانا هے ۔ “زید “کا مفهوم ایک انسانی شخصیت سے حکایت کرتا هے جو خود بخود موجود هے اور “دانا” کا مفهوم ایک اور وجودی کمال سے حکایت کرتا هے۔زید دانا هے کا جمله ان دونوں وجود کے درمیان اتحادی ارتباط سے ح
کایت کرتا هے که زید اپنے مراتب وجود میں سے ایک مرتبه میں عین وجود دانا هے۔ لیکن ممکن هے طرفین میں سے ایک (محمول – محکوم به) وجودی کمال سے حکایت نه کرے بلکه ایک اعتباری اور اخذی یا ایک عدمی جهت سے حکایت کرے۔ مثلا جب هم کهتے هیں که زید نابینا هے اس مثال میں نابینائی ایک عدمی امر هے ایک ایسا مفهوم هے جسے زید کے بینائی نه رکھنے سے اخذ کیا هے ؛ یعنی زید کا وجود اس نوعیت کا هے که نابینائی اس سے اخذ هوجاتی هے۔ جس طرح متناهی خط سے نقصان کا مفهوم اخذ هوتا هے جو که ایک عدمی امر هے جب آدھا میٹر خط کی ایک میٹر خط کی طرف نسبت دیتے هیں تو اس سے“انقصیت” اخذ هوتا هے۔بنابراین نابینائی موجود هے لیکن وجود زید کے علاوه ایک الگ وجود نهیں هے بلکه خود زید کے وجود سے اس کا وجود هے جیساکه نقصان موجود هے لیکن خط کے وجود کے علاوه ایک الگ وجود نهیں۔ اسی


دیدگاهتان را بنویسید